سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
نظام یہی ہے۔ ہمارے لیے اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ ہم ان تحدیات کا سامنا کریں۔ فریاد اور احتجاج سے ہمیں کوئی فائدہ ملنے والا نہیں۔ 28 نومبر کی شام کو کھانے کی میز پر ایک اسپینی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ بارسلونا کے رہنے والے تھے۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے : Migule De Quadras Sans Ronda General Thitre, 165-6 08022 Barcelona, Spain. (tel.34-3-4174160) انہوں نے بتایا کہ میں نے ہندوستان کے مختلف شہروں کا سفر کیا ہے۔ انہوں نے ہندو سادھوؤں اور سنتوں اور ہندوؤں کی مذہبی تنظیموں کا ذکر اتنی تفصیل کے ساتھ کیا کہ میں سمجھا کہ شاید وہ ہندو یا بدھسٹ ہیں ، مگر پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ ایک عیسائی ہیں۔ البتہ ہندو فلسفہ سے انہیں دلچسپی ہے۔ اسی سلسلہ میں وہ ہندوستان بھی گئے۔ اسی میز پر ایک اور شخص بالکل عربوں کی طرح عربی زبان بول رہے تھے۔ میں سمجھا کہ وہ کوئی مسلمان ہیں، مگر بعد کو معلوم ہوا کہ وہ عیسائی تھے۔ اس طرح کے ہزاروں عیسائی مختلف مذاہب کے قریبی مطالعہ کے لیے ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ ہر مذہب کی زبان سیکھتے ہیں۔ وہ ہر ایک کے مذہبی پیشواؤں کے ساتھ رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان میں ایسے بھی ہیں جو کلچرل طور پر ان سے مماثلت اختیار کر لیتے ہیں۔ مسلمانوں میں ایسی لگن والے لوگ نظر نہیں آتے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ان کا مذہب ان کے لیے دنیوی انٹرسٹ بن چکا ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہی چیز آخرت کے انٹرسٹ کی خاطر ہو سکتی تھی ، مگر آخزت کے انٹرسٹ میں لوگوں کے لیے اتنی کشش نہیں کہ وہ اس درجہ لگن کے ساتھ اس کے لیے کام کر سکیں۔ ایک عرب عالم نے اپنی تقریر میں شام و فلسطین کے تاریخی مقامات کا ذکر کیا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے کہا: هذه الاماكن مئية بالرموز المقدسة - عام اردو داں اسے سنے تو شاید وہ سمجھے گا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مقدس مقامات اسرار سے بھرے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ ان کا مطلب یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader