سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا کہ یہ مقامات مقدس نشانیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ رمز (جمع رموز) کا لفظ عربی میں علامت یا نشانی کے لیے ہے، مگر اردو میں اس کو راز کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ ایک ہی لفظ عربی میں کچھ معنی میں ہے اور اردو میں کچھ معنی میں۔ زبانوں میں اس طرح کی توسیع عام ہے۔ ایک زبان کا لفظ دوسری زبان میں کبھی سابق مفہوم ہی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی بدلے ہوئے مفہوم میں۔ ایک مسیحی مقرر نے کہا کہ ہمارے اندر سیلف کریٹسر م کی جرات ہونی چاہیے۔ لوگ سیلف کریٹسر م سے اس لیے گھبراتے ہیں کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہم اپنی نفی کرنے لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہم کوغیر یہودی اور غیر اسلامی اور غیر مسیحی بنانا پڑے گا۔ تب صحیح ڈائیلاگ ہوگا : If you want to start real dialogue, first you have to dejudise yourself, de Islamise yourself, de Chrischianise yourself. میں نے کہا کہ کرسٹر م تو ٹھیک ہے۔ مگر رئیل ڈائیلاگ کی یہ شرط صحیح نہیں کہ ہر آدمی پہلے اپنی حیثیت کا خاتمہ کرے ۔ اس کی صحیح شرط یہ ہے کہ آدمی کے اندر سائنٹفک ذوق ہو۔ وہ کھلے ذہن کے ساتھ ایک دوسرے کی بات کو سنے اور تعصب کے بجائے دلائل کی بنیاد پر اپنا رویہ کا فیصلہ کرے۔ اس کانفرنس میں بہت سے عرب شریک ہوئے ۔ ان میں سے ایک، نومولود حکومت فلسطین کے سفیر نبیل معروف بھی تھے ۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ آپ کا مسئلہ پوری امت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ امت کی طرف سے مدد کے منتظر ہیں (نحن منتظر و الغيث من الامة )۔ میں نے ان کا پتہ لکھتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ اپنی حکومت کو دولت فلسطینیہ کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں، ہم اس وقت اسی کے راستہ میں ہیں (نحن علی الطریق) ۔ وہ یہاں کی تقریروں سے مطمئن نہیں تھے۔ وہ اس یہودی عالم کی تقریر سے بھی خوش نہیں تھے جس نے کہا تھا کہ عرب اور اسرائیل کے درمیان اقتصادی تعاون (economic co-operation) کا بہت وسیع میدان ہے اور دونوں کو سیاسی ٹکراؤ کو چھوڑ کر اقتصادی ترقی کے مواقع کو استعمال کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ اجلاس کے اختتام پر ہم لوگ باہر نکلے تو ایک آدمی شیخ ادریس سکوتہ سے بہت تپاک کے ساتھ ملا۔ دونوں بہت زیادہ بے تکلفی سے عربی میں بات کرنے لگے۔ میں سمجھا کہ وہ کوئی عرب مسلمان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader