سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں۔ اتنے میں ایک اخبار کا رپورٹر آ گیا۔ اس نے ہم تینوں کا تعارف جاننا چاہا۔ اس وقت معلوم ہوا کہ وہ صاحب اسرائیل کے ایک یہودی تھے۔ یہاں یہودی بڑی تعداد میں آئے تھے۔ یہودی آج کل بڑے پیمانہ پر یہ کوشش کر رہے ہیں کہ یہودیوں اور مسلمانوں کا جھگڑا ختم ہو جائے۔ دونوں اپنے اپنے ملے ہوئے حصے پر مطمئن ہو کر باہم اچھے تعلقات قائم کر لیں، مگر مجھ کو یہاں آئے ہوئے مسلمانوں میں سے کوئی بھی نہیں ملا جو دل سے اس نظریہ کا حامی ہو۔ دکتور و بنت الشاطئ مصر کی مشہور خاتون ادیب ہیں۔ وہ بھی اس کانفرنس میں آئی تھیں۔ میں نے دیکھا کہ وہ سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں۔ ایک موقع پر انہوں نے پر جوش انداز میں کہا کہ یہ ڈائیلاگ نہیں ہے، یہ سب کلنٹن کے اشارہ پر ہو رہا ہے۔ امریکہ نے ہم لوگوں کو مفلس بنا دیا ہے۔ انہوں نے اس پر بھی احتجاج کیا کہ تقریریں زیادہ ہو رہی ہیں مگر مناقشہ کا وقت کم دیا جا رہا ہے (تمر جلسة بعد جلسة بدون مناقشة، ما هذا)۔ وہ کبھی عربی میں بولتی تھیں اور کبھی انگریزی میں۔ ایک بار انہوں نے امریکہ کے خلاف جذباتی انداز میں بولتے ہوئے کہا کہ ہم غلام ہیں، ہم امریکہ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے : We are slave, we can,t live without America. میں نے کہا کہ خاتون محترم ! اگر صورتحال بالفرض وہی ہے جو آپ بتاتی ہیں تب بھی یہاں لفظی احتجاج کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں اپنی کمیوں کو دور کرنا ہے، اس کے بعد ہی ایسا ہو سکتا ہے کہ ہم دوسری قوموں کی زیادتی سے محفوظ رہ سکیں۔ مسلمانوں کی ایک مجلس میں، میں نے کہا کہ اسلام میں جن باتوں کی تعلیم دی گئی ہے ان میں سے ایک تعلیم وہ ہے جس کو تو بہ کہا جاتا ہے۔ یعنی غلطی کرنے کے بعد دوبارہ درست طریقہ کی طرف واپس آنا۔ یہ تو بہ اسلامی زندگی کے لیے نہایت اہم ہے۔ جس آدمی کے اندر تو بہ کا مزاج نہ ہو وہ کبھی ایمان و اسلام میں ترقی نہیں کر سکتا۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ فلاح کا معاملہ تو بہ کے ساتھ بندھا ہوا ہے (القصص ، 67) ۔ تو بہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader