سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ جو آدمی غلطی کرنے کے بعد سچی تو بہ کرے اور اس کی شرطوں کو پورا کرے تو اس نے تو بہ سے پہلے جو برائی کی تھی اس کو بھی بھلائی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے (الفرقان، 25)۔ میں نے کہا کہ مسلمان تو بہ کے اس حکم کو چھوٹے چھوٹے معاملات میں تو جانتے ہیں، مگر وہ بڑے بڑے معاملات میں اس کی اہمیت سے بے خبر ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان ساری دنیا میں جس سب سے بڑی غلطی میں مبتلا ہیں، وہ دوسری قوموں سے ٹکراؤ کی پالیسی ہے۔ یہ ٹکراؤ اللہ کی نظر میں جرم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ٹکراؤ سے ایک طرفہ طور پر صرف مسلمانوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس ٹکراؤ سے مسلمانوں کو کسی بھی قسم کا کوئی فائدہ نہیں ملا۔ غیر مسلم قو میں مسلمانوں کے لیے مدعوقوم کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان قوموں کے سلسلے میں مسلمانوں کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ انہیں خدا کی تعلیمات سے باخبر کیا جائے ۔ ہر قسم کے بہترین ذرائع کو استعمال کر کے ان لوگوں تک دین حق کا پیغام پہنچایا جائے۔ پیغام رسانی کے اس عمل کو معتدل انداز میں جاری رکھنے کے لیے یہ بھی مسلمانوں پر فرض کیا گیا ہے کہ وہ ان قوموں کی زیادتی کو برداشت کریں، وہ ان کی اشتعال انگیزی کے باوجود ان کے خیر خواہ بنے رہیں۔ مگر مسلم لیڈروں نے غیر مسلم قوموں کی بعض زیادتیوں پر بے برداشت ہو کر ان کے خلاف ٹکراؤ شروع کر رکھا ہے۔ اس ٹکراؤ کو وہ بطور خود سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ جہاد نہیں ہے بلکہ سرکشی ہے۔ مسلم لیڈروں کو اس سرکشی سے تو بہ کرنا ہے۔ انہیں ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر نرمی اور محبت کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ یہ تو بہ ہے اور وہ مسلم لیڈروں کے اوپر فرض کے درجہ میں ضروری ہے۔ اگر انہوں نے یہ تو بہ نہ کی اور مدعوقوموں سے موجودہ ٹکراؤ کی پالیسی کو انہوں نے جاری رکھا تو یقینی طور پر و خسر الدنیا والآخرة کا مصداق بن کر رہ جائیں گے اور ذلت اور ناکامی کے سوا کچھ بھی انہیں حاصل نہ ہوگا۔ حسب معمول 29 نومبر کی صبح کو تمام لوگ گاڑیوں کے ذریعہ ہوٹل سے یونیورسٹی لے جائے گئے ۔ راستہ میں مختلف قسم کے اسپینی مناظر سامنے آتے رہے۔ یہ علاقہ پہلے مسلم اسپین میں شامل تھا جس کو اب ایبیر یا (Iberia) کہا جاتا ہے۔ یونیورسٹی میں ایک صاحب پر تپاک طور پر ملے۔ انہوں نے کہا السلام علیکم۔ وہ عربی زبان میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader