سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
بول رہے تھے۔ انہوں نے اپنا نام فادر چیری بیکر بتایا۔ ان کے چہرے پر مسلمانوں جیسی سفید داڑھی تھی ۔ وہ فرانس میں پیدا ہوئے۔ عرصہ سے وہ الجیریا میں مشنری کے طور پر کام کرتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ الجیریا کے مستقبل کے بارے میں آپ کا اندازہ کیا ہے۔ انہوں نے انگریزی میں جواب دیا کہ امن ابھی قریب نظر نہیں آتا: Peace is not very near. ایک یہودی جن کا نام موریس رومانی بتایا گیا تھا۔ انہوں نے صبح کے اجلاس میں بولتے ہوئے کہا کہ اسپین کی قدیم تاریخ مسلم، کرسچین، یہودی کے کو آرڈی نیشن کی شاندار مثال ہے۔ اسی کو آرڈی نیشن نے اسپین کا گولڈن ایچ پیدا کیا تھا۔ اس زمانہ میں عربی زبان کا عام رواج تھا۔ اس زمانہ میں کرسچین، یہودی اور مسلمان آزادانہ طور پر آپس میں عربی میں بات کرتے تھے۔ اب ہم کو دوبارہ اسی کو آرڈی نیشن کی ضرورت ہے۔ 29 نومبر کی شام کو آخری اجلاس تھا۔ اس میں اسپین کے کنگ اور کوئن دونوں شریک ہوئے۔ ہال کے اندر دونوں بالکل سادہ انداز میں داخل ہوئے۔ دونوں معمولی کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ اسٹیج پر ان کے لیے کوئی خصوصی کرسی بھی نہیں رکھی گئی۔ میری نشست ان کے بہت قریب تھی، اس لیے میں دونوں کو صاف طور پر دیکھ سکتا تھا۔ دونوں اتنے زیادہ سادہ اور متواضع معلوم ہو رہے تھے کہ یہ احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ اس ملک کے بادشاہ ہیں۔ کنگ نے اپنی اسپینی تقریر میں خصوصیت کے ساتھ ٹالرنس کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں یہودی آئے، عیسائی آئے، مسلمان آئے۔ سب مل جل کر ٹالرنس کے ساتھ یہاں رہے، سب نے ملک کی ترقی میں حصہ لیا۔ یہی ماحول ہم کو نئے اسپین میں بنانا ہے۔ یہی ہمارے لیے ترقی کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہمارے ملک میں ہر مذہب کو یکساں درجہ دیا گیا ہے۔ ہر مذہب کو اپنے اپنے دائرہ میں پوری آزادی حاصل ہے۔ شاہ اسپین کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ اس ملک کی جدید تاریخ میں افغانستان جیسے مسلم ملکوں کے لیے ایک بڑی سبق آموز مثال ہے۔ جنرل فرانکو (Francisco Franco) نے فوجی بغاوت کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader