Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

کے یہاں کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور 1936ء میں اسپین کے مطلق حکمراں بن گئے۔ لیکن بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر 1973ء میں انہوں نے وزیر اعظم کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ جنرل فرانکو کا ایک بیٹا تھا۔ مگر انہوں نے اپنے بیٹے کے بجائے جان کارلوز (Juan Carlos) کو 1969ء میں اپنا جانشین مقرر کر دیا جو قدیم شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے مطابق، 20 نومبر 1975ء کو جب جنرل فرینکو کی موت ہوئی تو فوراً ہی جان کارلوز اسپین کے کنگ بن گئے (EB (17/442-43) افغانستان میں روسی فوج کی واپسی (1986) یا ڈاکٹر نجیب اللہ خاں کے خاتمہ (1992) کے بعد اگر ایسا ہوتا کہ افغانی لیڈر ظاہر شاہ کو روم سے واپس بلا کر انہیں دوبارہ علامتی بادشاہ کے طور پر کابل کے شاہی محل میں رکھ دیتے اور ان کے رسمی اقتدار کے تحت الیکشن کر کے حکومت بناتے تو یہ افغانستان کے حق میں بے حد مفید ہوتا۔ اس کے بعد فوراً افغانستان کو اتحاد اور سیاسی استحکام حاصل ہو جاتا اور افغانیوں کی طاقت جو برسوں سے باہمی جنگ میں برباد ہو رہی ہے، وہ محفوظ رہ کر ملک کی تعمیر و ترقی میں استعمال ہونے لگتی، جیسا کہ آج اسپین میں ہے۔ جنرل فرانکو اگرچہ ایک ڈکٹیٹر آدمی تھا۔ مگر آخر عمر میں وہ معتدل ہو گیا تھا۔ اس نے حکومت کی پوری پالیسی میں سختی کے بجائے نرمی کا انداز اختیار کیا۔ استعماری دور کی باقیات کے طور پر افریقہ کے کئی علاقے اسپین کے قبضہ میں تھے۔ اسپین کی نئی حکومتی پالیسی کے تحت ان کو آزاد کر دیا گیا۔ افریقہ کے اسپینی صحارا کو مراکو اور مورطانیہ کے حوالے کر دیا گیا۔ مراکو کے بعض ساحلی علاقے اسپین کے قبضہ میں تھے۔ مثلاً افنی (Ifni) اور سبتہ (Ceuta) ۔ 1970 میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا۔ اس معاہدہ کے تحت افنی مراکو کو مل گیا اور سبتہ بدستور اسپین کے پاس باقی رہا (444/12 .EB)۔ یہاں جنرل فرانکو (1975-1892) کی پانچ تصویریں دی جارہی ہیں۔ یہ جوانی کی عمر سے لے کر بڑھاپے کی عمر تک کی ہیں۔ یہ تصویریں بڑی عبرت ناک ہیں۔ یہ بتاتی ہیں کہ کس طرح آدمی طاقت سے آغاز کر کے آخر کار ضعف کی حالت میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ یہ تصویریں گویا قرآن کی اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page