سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
آیت کی زندہ تفسیر ہیں کہ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفِ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفاً وَشَيْبَةً ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِیرُ (30:54)۔ یعنی اللہ ہی ہے جس نے تم کو ناتوانی سے پیدا کیا۔ پھر ناتوانی کے بعد قوت دی۔ پھر قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا طاری کر دیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ علیم و قدیر ہے۔ میڈرڈ کی کانفرنس میں میری ملاقات سبتہ کے ایک مسلمان سے ہوئی۔ ان کا نام محمد علی البھلولی (41 سال) تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اسپین اور مراکو کے درمیان مذکورہ معاہدہ کے بعد اسپین میں مسلمانوں کے حالات بہت بہتر ہو گئے ہیں۔ اب یہاں تعصب کے بجائے رواداری آ گئی ہے۔ ممکن ہے کہ اندر اندر کچھ تعصب موجود ہو، مگر ظاہری طور پر ہم لوگوں کو مسلمان ہونے کی وجہ سے کسی مشکل کا سامنا پیش نہیں آ رہا۔ گویا سبتہ پر جزوی مفاہمت کرنے کی بنا پر پورے ملک اسپین میں مسلمانوں کو کلی مواقع حاصل ہو گئے۔ محمد علی البھلولی نے 29 نومبر کی ملاقات میں بتایا کہ وہ سبتہ میں پیدا ہوئے ۔ وہ یہاں تجارت کرتے ہیں۔ انہوں نے عربی میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 1992 میں اسپین کی مسلم تنظیموں اور حکومت اسپین کے درمیان معاہدہ ہوا۔ اس کے تحت اسپینی حکومت نے دین اسلام کو ملک کا ایک مذہب تسلیم کر لیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader