Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

تم الاعتراف بالدين الاسلامی من طرف الحكومة الاسبانية بعد توقیع اتفاقية بين اللجنة الاسلامية الاسبانية والحكومة۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت اسپین میں پانچ لاکھ (500,000) مسلمان موجودہیں۔ سبتہ میں مسلمانوں کی تعداد پچیس ہزار ہے اور ملیلہ میں 35 ہزار۔ سبتہ میں سولہ مسجدیں ہیں۔ اسپینی زبان پر ابھی تک عربی کے اثرات ہیں۔ عربی کے بہت سے الفاظ اسپینی زبان میں پائے جاتے ہیں مثلاً القنطرہ (Alcantara) القلعہ (Alcala) وغیرہ۔ سبتہ اور جبل الطارق کے درمیان صرف 23 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ پرتگالیوں نے سبتہ پر 1415ء میں قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد مسلمانوں نے کئی بار سبتہ کو حاصل کرنے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ یہاں تک کہ 1480ء میں اسپین نے پرتگالیوں کو شکست دے کر سبتہ اور بعض دوسرے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت سے سبتہ اور ملیلہ اسپین کے قبضہ میں ہے۔ ایک مجلس میں ایک صاحب نے سبتہ اور ملیلہ کا ذکر کیا۔ دوسرے نے کہا کہ ہمارا ان سے کیا تعلق، وہ دونوں تو اسپین کے شہر ہیں (ماشانا ننا بهما، انهما مدينتان اسبانيتان)۔ پہلے نے کہا کہ یہ کیسی عجیب بے خبری ہے کہ عرب یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ دونوں مراکو کے ساحلی شہر ہیں۔ انہوں نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ صرف مراکو کی نہیں بلکہ تمام دول عربیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں واپس لے ۔ مگر یہ نہایت عجیب بات ہے کہ عربوں کی تمام چوٹی کا نفرنسوں نے سبتہ اور ملیلہ پر کبھی سرے سے بحث ہی نہ کی (من الغريب ان كافة مؤتمرَات القمة العربية لم تنحدث مطلقا عن سبتة ومليلة)۔ میں نے کہا کہ اگر عرب سلطنتوں نے اس مسئلہ پر کوئی اقدام نہیں کیا تو آپ نے خود ہی ان کی آزادی کے لیے اقدام کر دیا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص ایک ملک سے کیوں کر لڑ سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہی سوال عرب سلطنتوں کی راہ میں بھی حائل ہے۔ کیوں کہ اگر انہوں نے اس موضوع پر کوئی اقدام کیا تو پورا یورپ اور اقوام متحدہ ان کے مقابل میں آ جائیں گے، اس معاملہ میں جو عذر آپ کے لیے ہے وہی عذر ان کے لیے بھی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page