Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

جس طرح اسپین کے مقابلہ میں مراکو کے لیے سبتہ کا مسئلہ ہے، اسی طرح خود اسپین کے لیے برطانیہ کے مقابلہ میں جبرالٹر کا مسئلہ ہے۔ جبرالٹر جغرافی طور پر اسپین کا حصہ ہے، مگر ابھی تک اس کے اوپر برطانیہ کا قبضہ ہے۔ المجلة (جدہ) کے شمارہ 19-13 نومبر 1994 (16-10 جمادی الآخر 1415ھ) میں مراکو کے الملک الحسن الثانی کا ایک انٹرویو چھپا ہے۔ اس سلسلہ میں مجلہ کے رئیس التحریر عبدالرحمن حمد الراشد نے ان سے ملاقات کی تھی۔ شاہ حسن نے عرب لیگ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: کیا ہم عرب لیگ کو قبر میں دفن کر دیں اور اس کا جنازہ کس طرح نکلے گا۔ شاہ نے اپنے آپ سے سوال کیا اور پھر خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا۔ میں کہتا ہوں کہ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم صرف میثاق کی تبدیلی پر اکتفا نہ کریں۔ بلکہ ہمیں چاہیے کہ ہم نئی عرب لیگ کے بارے میں سوچیں۔ کیوں ۔ اس لیے کہ عرب لیگ اب تک عرب۔ اسرائیل اختلاف کی بنا پر قائم تھی۔ یہی اختلاف اس کو غذا پہنچاتا تھا اور اس کو آکسیجن دیتا تھا اور جب بھی وہ کمزور ہوتا تھا تو وہ اس کو طاقت کا انجکشن دیتا تھا۔ آج یہ عرب۔ اسرائیلی اختلاف کمزور ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہ خدا نے چاہا تو وہ ختم ہونے والا ہے۔ اب ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم اس گھر سے وابستہ رہیں جس کو ہم عرب لیگ کہتے ہیں تا کہ ہماری اجتماعیت قائم ہو سکے۔ شاہ نے اختصار کے ساتھ اس کو اس طرح کہا: ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم عرب لیگ کے لیے ایک نئے فکر کو ظہور میں لائیں: هل سنقبر الجامعة العربية و كيف ستكون جنازتها؟ سال الملك نفسه واجاب بنفسه قائلاً: ” اقول يجب ان لانكتفى بتغيير الميثاق، يجب ان نفكر في جامعة عربية جديدة، لماذا؟ لان الجامعة العربية الى حد الان كانت موجودة بسبب الخلاف العربي ۔ الاسرائيلي، وكان ذلك الخلاف يغذيها و يعطيها الاوكسجين ويعطيها حقناً كلما ضعفت ۔ اليوم هذا اخلاف اصبح يضعف ريثما ينتهى ان شاء الله ... علينا اذن ان نبقى متشبثين بهذا البيت الذى نسميه الجامعة العربية ليجمع شملنا“۔ قالها باختصار، ”علینا ان نبلو فكرة جديدة للجامعة“

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page