Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب سے اس کا ذکر ہوا۔ میں نے کہا کہ عرب لیگ کی حیثیت صرف ایک رسمی مجلس کی تھی، نہ کہ حقیقی معنوں میں کسی موثر اتحاد کی۔ پھر جن عرب ملکوں کا حال یہ ہو کہ عرب لیگ جیسا رسمی اتحاد قائم کرنے کے لیے بھی انہیں ایک بیرونی قومی خطرہ کی ضرورت ہو، ان سے کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اسپین کے مقابلہ میں کوئی بڑا اور فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ میرے کمرہ میں ایک اچھاتی وی سیٹ رکھا ہوا تھا۔ مگر اپنے مزاج کے مطابق، میں نے کبھی اس کو دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ 29 نومبر کی صبح کو وقت جاننے کے لیے اس کو کھولا تو اسپینی زبان میں خبریں آرہی تھیں۔ خبریں تو سمجھ میں نہ آئیں ۔ البتہ یہ سنا کہ اناؤنسر بار بار’’مسلمان‘‘ کا لفظ بول رہا ہے۔ اناؤنسر نے بوسنیا کے بارے میں کوئی خبر بتائی۔ اسی کے دوران اس نے غالباً بوسنیا کے کسی مسلم لیڈر کا ایک قول انگریزی میں نقل کیا۔ کہنے والے نے کہا تھا کہ بوسنیا کی صورت حال کے لیے میں اقوام متحدہ کو ذمہ دارٹھہراتا ہوں۔ وہ ضروری کارروائی کرنے میں ناکام رہی : I blame the U.N. for Bosnian situation. It failed to act. یہ یقینی طور پر نادانی کا ایک جملہ تھا۔ اقوام متحدہ نے یہ اصول مقرر کیا ہے کہ قومی نزاعات پر ہتھیار نہ اٹھایا جائے، بلکہ صرف پرامن دائرہ میں رہتے ہوئے اس کو حل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں کا حال یہ ہے کہ پہلے وہ اقوام متحدہ کے اصول کی خلاف ورزی کر کے گن اٹھائیں گے اور جب اس کا الٹا انجام سامنے آئے گا تو اقوام متحدہ سے امید کریں گے کہ وہ آئے اور ان کی مرضی کے مطابق ان کے مسئلہ کو حل کر دے ۔ 29 نومبر کو صبح 7 بجے میرے کمرہ کے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی ۔ رسیور اٹھایا تو تکرار کے ساتھ یہ آواز آنے لگی کہ صباح الخیر، یہ بیدار کرنے کی کال ہے: Good morning. This is a wake-up call. اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے حشر کا لمحہ آ گیا ہے اور موت کی نیند سونے والی روحوں کو پکارا جا رہا ہے کہ اٹھ جاؤ، اب آخری فیصلہ کا وقت آ گیا۔ یہ وقت آج علامتی صورت میں آیا ہے، مگر کل وہ حقیقی صورت میں آئے گا۔ عقل مند وہ ہے جو کل ہونے والے اعلان کو آج کی آواز میں سن لے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page