سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
کھانے کی میز پر دو مصری نوجوان آ گئے۔ ایک کا نام عبدالمقصود تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیوزبری (انگلینڈ) میں تبلیغی جماعت کا اجتماع تھا۔ اس میں وہ بھی جزوی طور پر شریک ہوئے ۔ اس اجتماع میں ہر ملک کے مسلمان آئے ہوئے تھے۔ ہر طرف السلام علیکم، السلام علیکم کی آواز سنائی دیتی تھی۔ وہی منظر تھا جس کو قرآن میں إِلَّا قِيْلًا سَلَامًا سَلَامًا (26:56) کہا گیا ہے۔ یعنی، صرف سلام سلام کا بول ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے آخری تقریر سنی، بہترین تقرير تھی۔ ایسی تقریر میں نے مصر میں کبھی نہیں سنی (کلام جميل، لم اسمع مثله في مصر)۔ کھانے کی میز پر قاہرہ کے ڈاکٹر جمعہ بھی موجود تھے۔ وہ فقہ کے استاد ہیں۔ ایک مقامی مسلمان نے ان سے سوال کیا کہ اس ملک میں حلال گوشت کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پھر ہم لوگ کیا کریں۔ ڈاکٹر جمعہ نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کو دیکھو ۔ یہ گوشت نہیں کھاتے۔ وہ غیر لحمی غذا پر گزارا کرتے ہیں۔ لیکن ان کی صحت بہترین ہے۔ گوشت کے بغیر آدمی مر نہیں جاتا۔ گوشت کے بارے میں میرا یہ ذوق اختیاری نہیں ہے۔ میری والدہ کہتی تھیں کہ جب میں چھوٹا بچہ تھا اس وقت بھی میرا یہ حال تھا کہ اگر وہ انڈا، مچھلی یا گوشت میرے منہ میں ڈالتی تھیں تو میں نکال دیتا تھا اور اس کو کھاتا نہیں تھا۔ گویا میں پیدائشی طور پر سبزی خور ہوں ۔ میں نے ڈاکٹر جمعہ کی بات کی تکمیل کرتے ہوئے کہا: میں بائی برتھ ویجیٹیریان ہوں، آپ حالات کے تقاضے کے تحت ہائی چوائس ویجی ٹیرین بن جائیے۔ ایک تعلیم یافتہ عرب سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی کہ جو عرب خود اپنے وطن میں کوئی بڑا علمی کارنامہ نہیں کر سکے تھے، انہوں نے اسپین میں کیسے اتنا بڑا علمی کارنامہ انجام دیا کہ وہ یورپ کی نشأۃ ثانیہ کی بنیاد بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا جواب ایک مستشرق نے یہ دیا ہے کہ عرب ایک ایسے ملک میں تھے جہاں دریاؤں کی روانی نہ تھی۔ وہاں سرسبز مناظر موجود نہ تھے۔ اس کے بجائے وہاں خشک پہاڑ اور تپتے ہوئے ریگیستانوں کا ماحول تھا۔ اس کے بعد یہ عرب اپنے وطن سے نکل کر جب اسپین میں پہنچے تو یہاں قدرتی مناظر تھے۔ فطرت کا حسن تھا، نشاط انگیز آب و ہوا تھی۔ اس نے عربوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader