Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اندر ولولہ کا ر اور جوش عمل ابھار دیا۔ ماحول کے اثر سے ان کی فطری صلاحیتیں جاگ اٹھیں۔ میں نے کہا کہ یہاں دوبارہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان نشاط انگیز مناظر نے خود اسپینیوں کے اندر یہی ولولہ کیوں نہیں ابھارا۔ اس فرق پر غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ولولہ کار کو ابھارنے والی اصل چیز تبدیلی (change) ہے۔ عربوں کے لیے صحرا سے نکل کر چمنستان میں جانا تبدیلی کا ایک ہیجان خیز معاملہ تھا۔ اس تجربہ نے ان کی شخصیت کو جگا دیا۔ مگر یہی عرب جب اسپین کے محل اور باغات کے عادی ہو گئے تو دوبارہ ان کی صلاحیتیں سوگئیں۔ علم کے قافلہ کو مزید آگے لے جانے کا کام مغربی یورپ نے کیا جس کو دوسو سالہ کروسیڈ کی ہارنے تبدیلی کے زلزلہ خیز تجربہ سے دوچار کر دیا تھا۔ ایک اسپینی اسکالر نے کہا کہ مسلمانوں نے جب ہمارے ملک پر حملہ کیا تو انہوں نے ہماری دولت کو لوٹا، یہاں کے باشندوں کو لونڈی اور غلام بنایا۔ کیا آپ کا اسلام اسی کی تعلیم دیتا ہے۔ اسپین میں تعلیم یافتہ لوگوں کا ایک طبقہ اسی انداز میں سوچتا ہے۔ جہاں تک اسپین میں مسلمانوں کی فوجی کارروائی کا تعلق ہے، اس کا معقول جواز موجود ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس زمانہ میں ویسی گوتھ کا آخری بادشاہ وٹیزا (Witiza) اسپین کا حکمراں تھا۔ اس کا زمانہ حکومت 700ء سے 710ء تک ہے۔ پادریوں نے وٹیزا کے خلاف سازش کر کے اس کو تخت سے ہٹا دیا اور اس کی جگہ ایک فوجی سردار لذرینق (Roderick) کو اسپین کے تخت پر بٹھا دیا۔ وٹیزا چونکہ لذرینق کو غاصب سمجھتا تھا۔ اس نے اس سے انتقام لینے کے لیے مسلمانوں کو اسپین پر حملہ کی دعوت دی۔ اس حملہ میں سبتہ (Ceuta) کے ناراض اسپینی حاکم (Count of Ceuta) نے بھی مدد کی جس کا نام جولین (Julian) تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی جولین نے طارق کو چار بڑی کشتیاں دی تھیں جن کے ذریعہ طارق نے اپنے لشکر کو اسپین کے ساحل پر اتارا تھا۔ مورخین نے اعتراف کیا ہے کہ اسپین پر مسلمانوں کا حملہ اپنی طرف سے شروع نہیں کیا گیا تھا۔ بلکہ وہ خود اسپین کے ویسی گوتھ کی دعوت پر تھا: The Muslim invasion of Spain was the result of Visigoth invitation rather than Muslim initiative. (17/414)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page