سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر اسی کے ساتھ خود مسلم مؤرخین یہ بتاتے ہیں کہ طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر نے جب اسپین میں فتوحات کیں تو وہاں انہوں نے بے شمار مقدار میں سونا اور چاندی اور ہیرے اور جواہر اور دوسرے اموال کو لوٹا اور کثیر تعداد میں عورتوں اور لڑکوں کو لونڈی اور غلام بنایا (83)۔ وہ ایک ایک شہر کو فتح کرتے رہے اور لونڈی اور غلام اور مالِ غنیمت اتنی زیادہ مقدار میں لے کر لوٹے جس کا شمار نہیں کیا جا سکتا (لا تحصى ولا تعد كثرة) البدایہ والنہایہ لابن کثیر، جلد 9، صفحہ 103۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کے لیے اس طرح اسپین میں مالِ غنیمت لوٹنا اور لونڈی اور غلام بنانا صحیح نہ تھا۔ کیوں کہ مالِ غنیمت کا اسلامی قانون اس جنگ کے لیے ہے جو کسی قوم نے ایک طرفہ جارحیت کر کے مسلمانوں کے خلاف چھیڑی ہو۔ مگر اسپین کے لوگ اس معنی میں جارح نہ تھے۔ اس لیے فتح کے بعد ان کے اموال کو لوٹنا اور ان کو لونڈی اور غلام بنانا صحیح نہیں ہو سکتا۔ مزید یہ کہ مالِ غنیمت کا قانون بھی صرف میدانِ جنگ کے لیے ہے نہ کہ عام آبادی کے لیے۔ ایک اور صاحب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ طارق بن زیاد یا بابر کے معاملہ کو عام طور پر اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ’’طارق کا حملہ اسپین پر‘‘ یا ’’بابر کا حملہ ہندوستان پر‘‘۔ مگر یہ درست نہیں۔ یہ شاہی دور کے واقعہ کو جمہوری دور کی اصطلاح میں بیان کرنا ہے۔ آج قومی جمہوریت کا زمانہ ہے۔ آج ایک قوم یا ملک کا حملہ دوسری قوم یا ملک پر ہوتا ہے۔ مگر شاہی دور میں ایسا نہ تھا۔ اس زمانہ میں جو سیاسی ٹکراؤ پیش آتا تھا وہ ایک بادشاہ سے ہوتا تھا نہ کہ ایک قوم کا دوسری قوم سے۔ اسپین میں طارق بن زیاد کے داخلہ کو اسی زمانی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ مزید یہ کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ معروف معنوں میں کوئی جارحانہ داخلہ نہ تھا بلکہ اس کی نوعیت یہ تھی کہ سابق حکمراں کے ظلم سے لوگ تنگ آگئے تھے، اس لیے انہوں نے اپنے سابق حکمراں کے خلاف نئے حکمراں کو دعوت دی اور اس کا استقبال کیا۔ 29 نومبر کو میڈرڈ کے اخبار (Puerta de Madrid) کی خاتون نمائندہ لويلا (Leoilla) نے انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں، میں نے کہا کہ اسلام کی تعلیمات فطرت پر مبنی ہیں اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader