Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

فطرت ہمیشہ امن کو پسند کرتی ہے۔ اس لیے اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے۔ اسلام میں صرف دفاعی جنگ ہے، اسلام میں جارحانہ جنگ نہیں۔ اسی طرح ایک اور اسپینی اخبار (La Libre Belgique) کی خاتون نمائندہ پاسکل بورگا (Pascale Bourgaux) نے اپنے اخبار کے لیے انٹرویو لیا۔ ان کو میں نے اپنے پیپر’’پیں ان اسلام‘‘ کی ایک کاپی دی۔ ان کے ایک سوال کے جواب میں، میں نے کہا کہ موجودہ قسم کی کانفرنس کو صرف اس کے تین روزہ اجلاس کی روشنی میں نہیں جانچنا چاہیے بلکہ اس کو ایک عمل (process) کے روپ میں دیکھنا چاہیے۔ اسی وقت اس کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان سے ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری آئے تھے۔ وہ اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اسلام آباد) کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ پاکستان میں ایک بڑی تباہ کن سیاسی روایت جاری ہو گئی ہے، اور وہ یہ کہ جو پارٹی الیکشن میں ہارتی ہے وہ اپنی ہار کو تسلیم نہیں کرتی۔ پولنگ بوتھ پر ناکامی کے بعد وہ دوبارہ سڑک کی سیاست پر آ جاتی ہے۔ وہ جلسہ جلوس، حتی کہ توڑ پھوڑ کے ہنگامے جاری کر کے چاہتی ہے کہ جیتی ہوئی پارٹی کو میعاد سے پہلے اقتدار سے بے دخل کر دے۔ یہ سیاست نہیں ہے بلکہ سیاست کے نام پر دادا گیری ہے۔ میں نے کہا کہ میرے مطالعہ کے مطابق، اس غلط سیاسی روایت کو پاکستان میں مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے شروع کیا۔ ان کو محمد ایوب خاں کے مقابلہ میں واضح انتخابی شکست ہوئی ۔ مگر انہوں نے اپنی شکست کو تسلیم نہیں کیا۔ بلکہ ایوب خاں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے دوبارہ نئے عنوان سے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کی مہم شروع کر دی۔ اس کے بعد پاکستان میں یہی سیاسی روایت عام طور پر چل پڑی۔ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری نے بطور واقعہ اس کو مانتے ہوئے کہا کہ اس کی جڑ یہ ہے کہ لوگوں کے ذہن میں سیاست ہی سب کچھ بن گئی ہے۔ سیاست کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے کی وجہ سے موجودہ زمانہ میں ہر جگہ اس قسم کی خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری الہ آباد میں 1932 میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستان چلے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page