سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
میں 27 نومبر 1994 کو اسپین پہنچا تھا۔ 28-29 نومبر کو وہاں تین مذاہب کی انٹرنیشنل کانفرنس تھی۔ اس کے بعد 30 نومبر کا دن خالی تھا۔ یہ دن صرف ملاقاتوں، معلومات اور مشاہدات کے لیے مخصوص تھا۔ میں نے اس موقع کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا۔ اس طرح جو باتیں دیکھیں یا جانیں ان کا مختصر تذکرہ اگلے صفحات میں کیا جاتا ہے۔ 1940 کے لگ بھگ زمانہ میں، میں نے الطاف حسین حالی کی منظوم کتاب مسدس پڑھی تھی جو مسدس حالی کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں حالی نے اسپین کی عظمت رفتہ کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ان کے یہ اشعار سادگی بیان اور تاثیر کی عجیب مثال ہیں۔ اس کا ایک شعر یہ ہے: کوئی قرطبہ کے کھنڈر جا کے دیکھے مساجد کے محراب و در جا کے دیکھے مجھے یقین نہیں تھا کہ اس کے 55 سال بعد مجھے اسپین جانے کا موقع ملے گا اور وہاں میں براہ راست طور پر قرطبہ کی سرزمین کو دیکھوں گا۔ قرطبہ (Cordoba) اسپین کا ایک قدیم شہر ہے۔ مسلمانوں نے 711ء میں اس کو فتح کیا اور 756ء میں اس کو اپنی راجدھانی بنایا۔ اس کے بعد سے گیارہویں صدی عیسوی تک وہ مسلم اسپین کی راجدھانی بنا رہا۔ دسویں صدی میں وہ یورپ کا سب سے بڑا شہر تھا اور اس کی حیثیت عالمی کلچرل سینٹر کی ہوگئی۔ 1236ء میں وہ مسیحی اسپین کا حصہ بن گیا۔ قرطبہ میں بہت سی مسلم یادگاریں ہیں۔ ’’مسجد قرطبہ‘‘ کو اس کی پر عظمت تعمیر کی وجہ سے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ابتدا میں اس کو خلیفہ عبدالرحمن نے بنوایا۔ بعد کے سلاطین مزید اس کی تکمیل کرتے رہے۔ یہ مسجد بارہ ہزار مربع میٹر کے رقبہ میں ہے۔ یعنی اس کی لمبائی 740 قدم ہے اور اس کی چوڑائی 440 قدم۔ اس میں 800 ستون ہیں۔ اس کا ایک حصہ چرچ بنا دیا گیا ہے جس کو ملا کر بارہ سو ستون ہو جاتے ہیں۔ ستونوں کی کثرت کی بنا پر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے بے شمار کھجوروں کے درخت کے اوپر ایک وسیع اور منقش چھت کھڑی ہوئی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مسجد قرطبہ کو دیکھ کر اقبال کی زبان پر یہ شعر آ گیا تھا: تیری بنا پائیدار تیرے ستوں بے شمار شام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم نخیل مسجد قرطبہ پر اقبال کی نظم صاحب ’’نقوش اقبال‘‘ کے الفاظ میں ’’ان کے واحد شاہکار کا حکم رکھتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader