سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
توالد و تناسل یا قبولِ اسلام کے ذریعہ اسپین کی آبادی میں اضافہ ہوا، اس کی مجموعی تعداد قطعی طور پر معلوم نہیں۔ تاہم دسویں صدی کے آخر میں مسلم اسپین کے سات بڑے شہروں ( قرطبہ، طلیطلہ، المیریا، غرناطہ، سرقسطہ، بلنسیہ، مالقہ) میں آبادی کا جو اندازہ کیا گیا ہے، وہ مجموعی طور پر تین لاکھ ستاسی ہزار (387,000) ہوتا ہے۔ مسلم اسپین سیاسی اعتبار سے کسی ایک وحدت کا نام نہیں تھا۔ اس کے تین بڑے دور ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، طارق بن زیادہ نے 711ء میں جبرالٹر کے راستہ سے داخل ہو کر اسپین (اندلس) میں مسلم سلطنت کی بنیاد رکھی۔ یہ پہلی اسپینی حکومت بغداد کی خلافتِ عباسی کے تحت تھی۔ اس حکومت کا پہلا امیر عبدالعزیز بن موسیٰ تھا۔ اس نے اشبیلیہ کو اپنی راجدھانی بنایا تھا۔ دوسرے امیر ایوب بن حبیب نے قرطبہ کو راجدھانی بنایا۔ اس کے بعد اموی شہزادہ عبدالرحمن الداخل عباسیوں کی گرفت سے بھاگ کر اسپین پہنچا۔ اس نے یہاں اپنی ایک فوج بنائی۔ اس نے عباسیوں کی ماتحت حکومت کو ختم کرکے باقاعدہ طور پر آزاد اموی حکومت قائم کی جس کی راجدھانی قرطبہ تھی۔ یہ حکومت 756ء سے لے کر 1031ء تک باقی رہی۔ اس کے بعد تیسرا دور آیا جب کہ اندلس میں طوائف الملوکی آ گئی۔ ہر علاقہ کے امیر نے مرکز سے بغاوت کرکے اپنی خودمختار حکومت قائم کرلی۔ اس طرح اندلس میں تقریباً بیس حکومتیں بن گئیں ۔ ان چھوٹی چھوٹی حکومتوں کو عیسائی ایک ایک کرکے ختم کرتے رہے۔ یہاں تک کہ آخر میں غرناطہ کی محدود حکومت اسی طرح باقی رہ گئی جس طرح انیسویں صدی کے وسط میں دہلی میں مغل بادشاہ کی حکومت باقی رہی تھی۔ یہ آخری حکومت بھی 1492ء میں عیسائیوں کے ہاتھوں ختم ہوگئی۔ مسلم اسپین میں جب سیاسی انتشار کی حالت پیدا ہوئی تو اس کو وقتی طور پر افریقہ کے حکمران یوسف بن تاشفین نے ختم کیا تھا۔ وہ 1086ء میں اسپین میں داخل ہوا۔ اس نے عیسائی حکمران الفانسوششم (Alfonso VI) کوشکست دی۔ باغی مسلم امراء کو زیر کیا۔ اس طرح اسپین میں ایک نیا مسلم دور شروع ہوا جو 1269ء تک چلا۔ تاہم یہاں کے مسلمان کے باہمی اختلافات کے نتیجہ میں مسلسل اندرونی اور بیرونی زیادتیوں کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader