سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
شکار رہے۔ آخری دور میں مسلم اسپین کی علامت سلطنت غرناطہ (1492–1232) تھی۔ اس کے حکمرانوں نے وَلَا غالِبَ إِلَّا اللَّه کو اپنا شعار بنایا۔ وہ اپنی عمارتوں وغیرہ پر کثرت سے اس لفظ کو تحریر کرتے تھے۔ یہ گویا اسلامی مزاج کا ایک اظہار ہے۔ مسلمان خواہ کسی حالت میں ہوں، وہ ہمیشہ خدا ہی کو اپنا بڑا بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ نہ صرف غیر حاکمانہ حیثیت میں بلکہ حاکمانہ حیثیت میں بھی خدا ہی کو غالب و قاہر سمجھتے ہیں۔ کبھی اور کسی حال میں یہ حقیقت ان کے ذہن سے محو نہیں ہوتی۔ میڈرڈ میں ایک عرب مسلمان سے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ لوگوں نے اسپین سے مسلمانوں کے سیاسی اقتدار کے خاتمہ کو اسپین سے اسلام کے خاتمہ کے ہم معنی سمجھ لیا۔ حالاں کہ بطور واقعہ یہ درست نہ تھا۔ اگر لوگ قرآن (3:140) میں بیان کردہ اللہ کی سنت تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ ( ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں ) کے ذہن سے سوچتے تو وہ اسپین میں سیاسی اقتدار کے خاتمہ کے باوجود اسلام کے دینی وجود کو زندہ رکھ سکتے تھے۔ مگر کئی صدیاں صرف فریاد و ماتم میں گزر گئیں۔ یہاں تک کہ خود تاریخ کی طاقتوں نے ظاہر ہو کر اسپین میں اسلام کے احیاء نو کا کام شروع کر دیا۔ نئے تقاضوں کے تحت اسپین میں مستقل طور پر ایک عمل جاری ہو گیا ہے جس کو عرب دانشور أسبنة التاريخ الاسلامی فى الاندلس کہتے ہیں۔ یعنی اندلس کی اسلامی تاریخ کو اسپینی بنانا۔ اس نئے رجحان کے تحت اسپین میں بہت سے کام کیے جا رہے ہیں۔ مثلاً قرطبہ میں آپ دیکھیں گے کہ وہاں کئی سڑکوں پر مسلم شخصیتوں کے بورڈ لگے ہوئے ہیں۔ مثلاً شارع ابن رشد، شارع ابن الولید، شارع المنصور، شارع الزھراوی وغیرہ۔ اسی طرح آپ قرطبہ جائیں تو وہاں کی سڑکوں کے کنارے آپ دیکھیں گے کہ عرب دور کے اہل علم کے مجسمے جگہ جگہ نصب کیے گئے ہیں۔ مثلاً ابن رشد جس کا مجسمہ 1967ء میں لگایا گیا۔ علی بن حزم کا مجسمہ 1963ء میں، حکیم العیون محمد بن قسوم کا مجسمہ 1965ء میں اور اسی طرح دوسرے بہت سے مجسمے ۔ حتی کہ غرناطہ کے قریب ایک ساحلی مقام المونیکر (Almunecar) پر عبد الرحمن الداخل کا بہت بڑا مجسمہ لگایا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader