سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ وہ مقام ہے جہاں سمندری سفر طے کر کے اموی شہزادہ عبد الرحمن اسپین کی سرزمین پر اترا تھا۔ یہ مجسمہ پانچ میٹر بلند ایک چوٹی کے اوپر ہے۔ وہ اپنی تلوار پر ٹیک لگائے ہوئے فاتحانہ انداز میں کھڑا ہوا ہے۔ اس طرح کے بہت سے واقعات جدید اسپین میں ہورہے ہیں جس کا ذکر اس مختصر سفر نامہ میں ممکن نہیں۔ 1986ء میں قرطبہ میں ایک بہت بڑی کانفرنس ہوئی۔ اس میں اسپین کے علاوہ بیرونی ملکوں کے 150 علماء شریک ہوئے۔ اس کانفرنس کا موضوع ”اندلس میں اسلام“ تھا۔ اس میں نہایت کھل کر اس موضوع پر تقریریں اور مباحثے ہوئے۔ عام طور پر اسپینی پریس نے اس کا خیر مقدم کیا تھا۔ ایک انتہا پسند اسپینی مجلہ کامبیو نے اپنے شمارہ 9 فروری 1987 میں ایک رپورٹ شائغ کی۔ اس کا عنوان تھا: اسلام ہمارے ملک میں داخل ہوتا ہے: El Islam Nis Penetra (Cambio) ایک عرب عالم نے اس موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسیحیوں کی دشمنی اور ظلم و زیادتی کے باوجود خدا کے فضل سے اسلام سر زمین اسپین میں بخیر و عافیت موجود ہے (رغم کل هذا الحقد الصليبي ورغم التنكيل فلا يزال الاسلام بخير في ارض الاندلس )۔ ایک اسپینی مسلمان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تاریخ کے بارے میں کسی ایک کتاب کو پڑھ کر رائے قائم کرنا صحیح نہیں۔ تاریخ بظاہر واقعات کا ریکارڈ ہے۔ مگر تقریباً تمام تاریخی کتابیں اپنے اپنے ذوق کے مطابق منتخب واقعات کا ریکارڈ کرتی ہیں۔ مثلاً اسپین کے بارے میں مسلمانوں نے جو تاریخیں لکھی ہیں، ان کا انداز یہ ہے کہ ان میں مسلمانوں کی صرف اچھی باتوں کو لیا گیا ہے اور مسیحیوں کی زیادہ تر بری باتوں کو۔ اسی طرح مسیحی حضرات نے جو کتابیں لکھی ہیں ان میں مسیحیوں کی اچھی باتوں کو نمایاں کیا گیا ہے اور مسلمانوں کی صرف بری باتوں کو۔ یہی وجہ ہے کہ اسپین کی قدیم تاریخ کے بارے میں مروجہ واقعہ پڑھ کر صحیح ذہن نہیں بنتا۔ مسلمان اور مسیحی دونوں زیادہ تر اپنے اپنے لوگوں کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھتے ہیں۔ اس لیے قدیم اسپینی تاریخ کی صحیح تصویر نہ مسلمانوں کے ذہن میں ہے اور نہ مسیحیوں کے ذہن میں۔ الا ماشاء اللہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader