سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کتاب میں مصنف نے کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا ہے کہ عربی اسپین (Arab Spain) ہی یورپ کی نشاتہ ثانیہ کا سبب تھا۔ حتیٰ کہ انڈیا، چین اور یونان کی علمی وراثت بھی اسپینی مسلمانوں ہی کے ذریعہ یورپ تک پہنچی۔ اسطرلاب ابتدائی طور پر اگرچہ ایک یونانی ایجاد تھی لیکن یہ عرب ہی تھے جو اس کو مغرب تک پہنچانے کا ذریعہ بنے۔ جب چاسر (Chaucer) نے اسطرلاب کے استعمال پر اپنا رسالہ لکھا تو اس نے ایک عرب رسالہ کو بطور ماڈل اپنے سامنے رکھا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرون وسطیٰ میں یورپ کسی بھی دوسری تہذیب کا اتنا احسان مند نہیں جتنا کہ اسلام کا: To no other civilization did Europe owe so much in the Middle Ages as to Islam. (p.511) ایک صاحب کو عالمی نقشہ دکھاتے ہوئے میں نے کہا کہ اس کو دیکھیے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یورپ اسپین کے مقام پر آگے بڑھ کر افریقہ کی مسلم دنیا سے مل رہا ہے۔ یہ ملاقات عملاً پیش آئی۔ مگر وہ زیادہ تر سیاسی اور علمی سطح پر باقی رہی۔ دعوت کی سطح پر دونوں کے درمیان زیادہ تعلق قائم نہ ہوسکا۔ چودہویں اور پندرھویں صدی کے درمیان یورپ میں ترقی کا وہ واقعہ ہوا جس کو نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کہا جاتا ہے۔ مغربی مورخین عام طور پر یہ کہتے ہیں کہ یہ یونانی اور رومی تہذیب کا احیاء تھا جو پہلے اٹلی میں ہوا اور پھر دوسرے یورپی ملکوں تک پہنچا۔ مگر یہاں ایک درمیانی کڑی کو حذف کر دیا گیا ہے اور وہ اسپین ہے۔ اصل یہ ہے کہ مسلمانوں نے اسپین میں قدیم تہذیبی سرمایہ کو لے کر اس میں اضافے کیے۔ اس طرح اسپین میں ایک اعلیٰ تہذیب وجود میں آئی۔ پھر یہ تہذیب اٹلی میں داخل ہو کر بقیہ یورپی ملکوں تک پہنچی۔ ترقی کے اس عمل میں اسپین کی کڑی حذف ہونے کی ذمہ داری خود اسپین پر ہے۔ پندرھویں صدی میں اسپینیوں نے مسیحی چرچ کے زیر اثر یہ مجنونانہ کام کیا کہ علم وفن کے مسلم ماہرین کو ملک سے نکلنے پر مجبور کر دیا چونکہ مسلمان ہی اس تہذیبی عمل کو اسپین میں جاری کیے ہوئے تھے۔ اس لیے اس جبری انخلاء کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسپین کی کڑی ٹوٹ گئی اور اٹلی ہی کی کڑی عملاً اہل یورپ کے لیے باقی رہی۔ اس مسئلہ پر ایک اسپینی اسکالر سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ واقعات کی فطری رفتار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader