سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
میں جب بھی تشدد کے ذریعہ تبدیلی لانے کی کوشش کی جائے گی، ہمیشہ اسی قسم کا منفی نتیجہ نکلے گا۔ اس دنیا میں تدریجی تبدیلی ہی قابل عمل ہے۔ ریڈیکل تبدیلی صرف ایک لفظ ہے۔ اس کے نتیجہ میں عملاً جو چیز ظہور میں آتی ہے وہ صرف تخریب ہے نہ کہ تبدیلی۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے بجا طور پر لکھا ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی اور نوویں صدی عیسوی کے درمیان یورپ میں بت اور مذہبی تصویروں کے خلاف جو مہم اٹھی اس کو بھی مسلم اسپین ہی سے تحریک ملی تھی (أن الدعوة إلى نبذ الصور والتماثيل كانت متأثرة بالإسلام)۔ کلوڈیس (Claudius) کو 828 ء میں تورین کا اسقف مقرر کیا گیا۔ وہ مذہبی تصویروں کو غیر مقدس قرار دینے میں اتنا شدید تھا کہ وہ اس قسم کی تصویروں اور صلیبیوں کو جلا دیا کرتا تھا اور اپنے چرچ میں اس کی عبادت کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ یہ کلوڈیس اندلس میں پیدا ہوا اور وہیں اس کی پرورش ہوئی (ولد و ربي في الأندلس الإسلامي) ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين، صفحہ 116۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ 1492ء میں غرناطہ کی مسلم سلطنت پر قبضہ کرنے کے بعد عیسائی حکمرانوں نے یک طرفہ طور پر مسلمانوں کو مارنا اور بھگانا شروع کر دیا، مگر بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ اس وقت مسلمان اسپینیوں کے لیے بہترین مزدور اور بہترین کاریگر کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے ان کے صنعت و حرفت اور زراعت و باغبانی کے نظام کو ترقی دی تھی اور اس کو سنبھالے ہوئے تھے۔ اس لیے اسپینیوں کو عام مسلمانوں سے وہ نفرت نہیں ہوسکتی تھی جو ان کو سیاسی حکمرانوں سے تھی۔ مگر مسلم حکومت کے خاتمہ کے بعد ان مسلمانوں نے عیسائی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ بار بار ان کے خلاف بغاوت کرتے رہے۔ اگر چہ نا کافی تیاری کی بنا پر وہ ہر بار کچلے جاتے تھے۔ مزید یہ کہ اسپین کی مذہبی مخالفت کا تعلق صرف مسلمانوں سے نہیں تھا بلکہ وہ تمام غیر عیسائی مذاہب سے تھا۔ چنانچہ مسلمانوں کے ساتھ اسپینی یہودی بھی یکساں عتاب کا نشانہ بنے۔ غرناطہ کی موجودہ آبادی ڈھائی لاکھ ہے۔ اس میں تقریباً ایک ہزار اسپینی مسلمان ہیں۔ ان مسلمانوں کو حکومت وقت کی طرف سے کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں۔ وہ اپنی شخصیت کو چھپائے بغیر آزادی کے ساتھ شہر میں رہتے ہیں۔ 1993 میں غرناطہ کے مسلمانوں نے عید الفطر کی نماز الحمراء میں ادا کی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader