سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب نے بتایا کہ اسپین کے ٹی وی سسٹم نے اس نماز کی مکمل فلم بندی کی تھی۔ اس کو ٹی وی کے نیشنل پروگرام کے تحت براڈ کاسٹ کیا گیا جس کو پورے ملک میں نہایت شوق کے ساتھ دیکھا گیا۔ کچھ لوگ اسپین کی تصویر اس طرح پیش کرتے ہیں جیسے کہ سارا اسپین مسلمانوں کا دشمن بن گیا تھا۔ مگر یہ واقعہ کے خلاف ہے اور فطرت کے خلاف بھی۔ اصل یہ ہے کہ وہاں تین طبقے تھے۔ ایک مذہبی طبقہ، دوسرا حکمران طبقہ، تیسرا عوامی طبقہ۔ یہ صحیح ہے کہ مذہبی طبقہ (مسیحی چرچ) مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کا دشمن بن گیا تھا اور چونکہ اس زمانہ میں وہاں مذہبی طبقہ کا بہت اثر تھا، اس لیے انہوں نے دونوں فرقوں پر کافی ظلم بھی کیا۔ مگر حکمران طبقہ کے دل میں مسلمانوں کے لیے وہ نفرت نہ تھی۔ کیوں کہ مسلمان ان کے ملک کی ترقی کا سبب بنے ہوئے تھے۔ مثال کے طور پر تاریخ بتاتی ہے کہ چرچ کے لوگوں نے مسجد قرطبہ کے کچھ ستونوں کو گرایا اور اس کے ایک حصہ میں چرچ بنا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے چارلس پنجم (1558-1500ء) کو اس چرچ کے افتتاح کے لیے بلایا۔ مگر شاہ اسپین جب وہاں آیا اور مسجد کے بقیہ حصہ کو دیکھا تو وہ بہت غضب ناک ہوا۔ اس نے کہا میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہ مسجد اتنی خوب صورت اور اتنی عالی شان ہے۔ اگر میں جانتا تو ہم کو ہرگز اسے توڑنے کی اجازت نہ دیتا۔ کیوں کہ اس کے ایک حصہ کو توڑ کر تم نے جو چرچ بنایا ہے وہ تم دوسری جگہ بھی بنا سکتے تھے۔ مگر یہ مسجد تو ایک ایسی نادر عمارت ہے جس کی دوسری مثال سارے عالم میں موجود نہیں۔ چارلس پنجم نے اہل کلیسا کے زیر اثر 1525ء میں بلنسیہ اور اراراغون کے مسلمانوں کے نام یہ حکم جاری کیا کہ وہ اپنی زبان، مذہب، لباس، عادات کو ترک کر کے مکمل طور پر عیسائی ہو جائیں، ورنہ ان کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جائے گا۔ اس کے بعد 1528 میں بلنسیہ کے بارہ افراد کا ایک وفد بادشاہ سے ملا اور اس سے درخواست کی کہ اس حکم کو واپس لے لیا جائے۔ چنانچہ بادشاہ نے اس حکم کا نفاذ روک دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ مسلمان اپنی محنت اور اپنی مہارت کی بنا پر وہاں کے زمینداروں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader