سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
اور جاگیر داروں کے لیے قیمتی سرمایا تھے۔ وہ ڈرتے تھے کہ اگر مسلمانوں کو نکال دیا گیا تو ان کے کھیت اور باغ ویران ہو جائیں گے اور ان کی اقتصادیات پر اس کا نہایت مضر اثر پڑے گا۔ مسلم اقتدار کے خاتمہ کے بعد مسجد قرطبہ کے ایک حصہ کو عیسائیوں نے چرچ میں تبدیل کر دیا۔ مگر اس کا سبب عیسائیوں کے ظلم کے ساتھ خود مسلمانوں کی نادانی بھی تھی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اسپین میں ایک مسیحی پیشوا سینٹونسنٹ (Saint Vincent Ferrer) گزرا ہے۔ مسیحیوں نے اس کے نام پر قرطبہ میں دریا کے کنارے ایک چرچ تعمیر کیا تھا۔ اس علاقہ پر سیاسی قبضہ کے بعد مسلمانوں نے عین اسی چرچ کی جگہ اپنی مسجد بنا دی۔ اس طرح اس مسجد کے ساتھ غیر ضروری طور پر نزاع کی حالت قائم ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ بعد کو 786ء میں سلطان عبدالرحمن الداخل نے عیسائیوں کو راضی کر کے اس جگہ کو خرید لیا اور وہاں مزید توسیع کے ساتھ عظیم مسجد قرطبہ کی تعمیر کی۔ اس تعمیر پر دو سال میں 80 ہزار دینار خرچ ہوئے۔ عیسائیوں کو جب دوبارہ سیاسی غلبہ ملا تو انہوں نے مسجد کے تو سیعی حصہ کو تو چھوڑ دیا، مگر سینٹونسنٹ چرچ کی ابتدائی جگہ کو دوبارہ انہوں نے گرجا میں تبدیل کر دیا۔ اسپین میں مسلم سلطنت کے خاتمہ کے بعد مسیحیوں نے بہت سی مسجدوں کو چرچ بنا دیا تھا۔ اس کا دفاع کرتے ہوئے بعض مغربی مصنفین نے لکھا ہے کہ یہ مسیحیوں کی طرف سے جوابی کارروائی تھی۔ مسلمانوں نے اپنے زمانہ حکومت میں کثیر تعداد میں چرچ کو مسجد میں تبدیل کر دیا تھا۔ چنانچہ مسیحیوں کو جب غلبہ حاصل ہوا تو انہوں نے دوبارہ ان مسجدوں کی جگہ پر اپنے چرچ بنا دیئے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے مولانا مفتی محمد تقی عثمانی لکھتے ہیں: ’’اسلام میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر کوئی علاقہ مسلمانوں نے صلح سے نہیں بلکہ بزورِ شمشیر جنگ کے ذریعہ فتح کیا ہو تو وہاں کی زمینوں اور عمارتوں پر انہیں شرعاً مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اس اختیار میں یہ بھی داخل ہے کہ وہ غیر مسلموں کی کسی عبادت گاہ کو ضرورتًا ختم کر دیں، یا مسجد میں تبدیل کر لیں۔ اس کے باوجود مسلمان فاتحین نے اس شرعی اختیار کو بہت کم استعمال کیا۔ بعض مقامات پر کسی ضرورت یا مصلحت کے تحت کلیسا کو مسجد بنایا گیا۔‘‘ اندلس میں چند روز، صفحہ 21 یہ بات صحیح نہیں۔ ’’بزورِ شمشیر فتح‘‘ کا مذکورہ حکم صرف اس وقت ہے جب کہ فریقِ ثانی خود

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader