Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

جارجیت کرے اور اس کے نتیجہ میں جنگ پیش آئے۔ جب کہ معلوم ہے کہ اسپین نے اس قسم کا کوئی جارجانہ اقدام نہیں کیا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جارجیت کی صورت میں بھی مذکورہ شرعی مسئلہ کا تعلق صرف زمینوں اور عمارتوں سے ہے، اس میں عبادت خانہ شامل نہیں ہے۔ کسی قوم کے عبادت خانہ کو توڑنا صرف اس وقت جائز ہے جب کہ اس کو بنانے والے سب کے سب اسلام قبول کر کے نمازی بن گئے ہوں۔ تیسری بات یہ ہے کہ جس طرح ایک انسان کو ناحق مارنا گویا تمام انسانوں کو مارنا ہے، اسی طرح کسی عبادت گاہ کو ڈھانا گویا تمام عبادت گاہوں کو ڈھانا ہے۔ اس طرح کے معاملات میں کمیت قابل لحاظ نہیں ہوتی۔ اسپین سے مسلمانوں کا کلی انخلاء نہ کبھی ہوا اور نہ ہو سکتا تھا۔ مسلم حکمرانوں نے اپنے زیر قبضہ اسپین میں غیر مسلموں سے انتہائی رواداری اور انصاف کا معاملہ کیا تھا۔ مسلمانوں کی علمی ترقیوں سے مقامی آبادی اتنا زیادہ متاثر تھی کہ لوگ اسی طرح عربی لکھنے اور بولنے کو فخر سمجھتے تھے جس طرح برٹش حکومت کے دور میں ہندوستان کے لوگ انگریزی لکھنے اور بولنے کو فخر سمجھنے لگے تھے۔ اسپینیوں کی ایک بڑی تعداد مستعرب (Mozarab) بن گئی تھی۔ یہ تقریباً اسی قسم کے لوگ تھے جیسے مغل دور میں ہندوستان کے کائستھ۔ مسلمان۔ اسپین کی زراعت اور صناعت کے لیے بہترین کاریگر اور ماہرین فراہم کر رہے تھے۔ اسپینیوں کی ایک قابلِ لحاظ تعداد نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ حتیٰ کہ خود اسپین کے مسیحی حکمرانوں میں کئی حکمراں ایسے تھے جو مسلمانوں کے حق میں اپنے دل کے اندر نرم گوشہ رکھتے تھے۔ اس طرح کے مختلف طاقتور اسباب اس میں مانع تھے کہ مسلمانوں کو مکمل طور پر اسپین سے باہر نکال دیا جائے۔ تقریباً تین لاکھ (300,000) مور سکو (Moriscos) جو اسپین سے نکالے گئے، وہ بھی قانون فطرت کے مطابق، عسر میں یسر کی مثال بن گئے۔ یہ لوگ اسپین سے نکل کر زیادہ تر الجیریا، تیونس اور مرا کو میں بسے تھے۔ ان کا یہ آنا ان ملکوں میں اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بن گیا۔ پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے تحقیق کر کے بتایا ہے کہ ان افریقی ملکوں میں تبلیغِ اسلام کے لیے یہاں قادریہ سلسلہ تصوف کی ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page