سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
خانقاہ ساقيۃ الحمراء کے نام سے قائم تھی، مگر وہ زیادہ کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔ مسلم مذہب کو ان افریقیوں کے اندر داخل کرنے کا کارنامہ ان ہسپینی مسلمانوں نے انجام دیا جو 1492ء میں غرناطہ کی حکومت کے خاتمہ کے بعد اسپین سے نکال دیے گئے تھے: اقبال کو دوبارہ اسپین کے علاقہ میں جانے کا موقع ملا۔ پہلی بار 1908ء میں جب یورپ کے ایک سفر کے دوران وہ اسپین کے ساحل (سسلی) سے گزرے۔ اس پر انہوں نے ایک تاثراتی نظم بھی لکھی تھی جو ان کے مجموعہ میں شامل ہے۔ اسپین کے لیے اقبال کا دوسرا سفر جنوری 1933ء میں ہوا۔ اس وقت تیسری گول کانفرنس لندن میں ہوئی تھی۔ اس میں شرکت کے لیے جو لوگ ہندوستان سے گئے، ان میں سے ایک اقبال بھی تھے۔ کانفرنس سے فراغت کے بعد وہ پیرس ہوتے ہوئے غالباً 5 جنوری کو اسپین میں داخل ہوئے اور اپنے تین ہفتہ کے قیام میں میڈرڈ اور غرناطہ اور قرطبہ کو دیکھا۔ اقبال کو اسپین کے علاوہ دوسرے کئی ملکوں کے سفر کا موقع ملا۔ چنانچہ وہ فخر کے ساتھ کہتے ہیں: بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے میخانے (بال جبریل)۔ مگر صرف کسی ملک کا سفر کرنا یا اس کو دیکھنا اس ملک کو جاننے کے لیے کافی نہیں ہے۔ ایک سفر میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔۔ وہ انجینئر تھے اور یورپ کی ایک شپنگ کمپنی میں 20 سال سے ملازم تھے۔ انہوں نے دنیا کے اکثر ملکوں کا سفر کیا تھا۔ مگر جب میں نے گفتگو کی تو اندازہ ہوا کہ عالمی زندگی کے کسی بھی پہلو پر وہ کوئی گہری واقفیت نہیں رکھتے۔ اصل یہ ہے کہ ایک سائنس داں کے الفاظ میں، آدمی کو پیشگی طور پر ایک تیار ذہن (Prepared mind) ہونا چاہیے۔ اس کے بعد ہی وہ کسی چیز کو حقیقی طور پر سمجھ سکتا ہے۔ اسی طرح ضروری ہے کہ تاریخ اور دوسرے علوم کے گہرے مطالعہ سے آدمی ذہنی طور پر پوری طرح تیار ہو چکا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader