سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو ۔ اس کے بعد ہی وہ کسی ملک کو گہرائی کے ساتھ جان سکتا ہے یا وہاں کے سفر سے کوئی حقیقی بات دریافت کر سکتا ہے۔ 1908 میں اقبال نے اسپین کے ساحل کو دیکھ کر کہا تھا: رو لے اب دل کھول کر اے دیدۂ خوننابہ بار وہ نظر آتا ہے تہذیبِ حجازی کا مزار یہ محض ایک شاعرانہ تخیل ہے، نہ کہ واقعی معنوں میں کوئی تاریخی واقعہ۔ کیوں کہ یہ حقیقت ہے کہ اسپین کبھی بھی’’تہذیبِ حجازی‘‘کا مزار نہیں بنا۔ وہاں سے بعض مسلم خاندانوں کا سیاسی اقتدار ضرور ختم ہوا، مگر جہاں تک حجازی تہذیب یا اسلام کا معاملہ ہے اس کا وجود خاندانی اقتدار کے خاتمہ کے بعد بھی اسپین میں باقی تھا اور آج بھی وہ وہاں موجود ہے۔ اقبال نے فاتح اسپین طارق بن زیاد کے بارے میں لکھا ہے کہ طارق نے جب اندلس کے ساحل پر اپنی کشتی کو جلا دیا تو لوگوں نے کہا کہ عقل کی نظر میں یہ تم نے غلط کام کیا: طارق چو بر کناره اندلس سفینه سوخت گفتند کار تو به نگاه خرد خطاست حالانکہ کشتیوں کو جلانے کا یہ افسانہ بالکل بے بنیاد ہے اور وہ کسی بھی قابل اعتماد تاریخی کتاب میں موجود نہیں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: الرسالہ مئی 1989ء) اسی طرح اقبال اپنی ایک نظم میں کہتے ہیں: آستاں نے دولتِ غرناطہ جب برباد کی ابن بدروں کے دلِ ناشاد نے فریاد کی یہ بھی اقبال کی ایک تاریخی بھول ہے۔ کسی ابن بدرون نے کبھی غرناطہ کا مرثیہ نہیں لکھا۔ اصل یہ ہے کہ ابن عبدون الفہری (م 529ھ) ایک اسپینی شاعر تھا۔ اس کا تعلق بطلیوس (Badajoz) کے مسلم حکمران متوکل بن المظفر سے تھا جو ملوک الطوائف میں سے ایک تھا۔ ابن عبدون اسی متوکل کا وزیر تھا اور شاعر بھی تھا۔ متوکل بن المظفر کو یوسف بن تاشقین نے اس کے دو بیٹوں سمیت مروادیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader