سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا۔ اس المیہ پر ابن عبدون نے عربی میں ایک مرثیہ لکھا۔ اس مرثیہ کا تعلق سقوط بطلیوس سے تھا، نہ کہ سقوط غرناطہ سے۔ ابن عبدون کے اس مرثیہ کی شرح ایک صاحب نے کی، جو شاعر نہیں تھے بلکہ صرف عالم تھے۔ ان کا نام ابن بدرون (عبد الملک بن عبد اللہ بن بدرون) تھا۔ انہوں نے 608 ھ میں وفات پائی۔ مسجد قرطبہ پر اقبال کی طویل نظم کا ایک مصرعہ یہ ہے: کافر ہندی ہوں میں دیکھ مرادِ شوق و شوق اس طرح کے بہت سے اشعار اقبال کے یہاں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً انہوں نے اپنے بارے میں کہا: مرا بنگر که در هندوستان دیگر نمی بینی برہمن زادہ دانائے رمز روم و تبریز است اسی طرح وہ اپنی ایک نظم میں کہتے ہیں’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘۔ حتیٰ کہ ان کی ایک تعریفی نظم رام کے بارے میں بھی ہے جس کا ایک شعر یہ ہے: ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز اہل وطن سمجھتے ہیں اس کو امامِ ہند اقبال کے اس قسم کے اشعار کو اُس زمانہ میں بُرا نہیں مانا گیا، لیکن اس طرح کی بات اگر آج کوئی لکھے تو خود اقبال کے پرستار یہ کہیں گے کہ دیکھو اس شخص کو، یہ ہندو کا آلہ کار بن گیا ہے۔ یہ مسلمانوں کا تشخص مٹانا چاہتا ہے۔ عبد المجید بن عبد اللہ بن عبدون الفہری (م 529 ھ) اندلس کے ایک ممتاز عالم اور ادیب ہیں۔ ان کے بارے میں بہت سے قصے مشہور ہیں۔ ابو مروان عبدالملک ایک وزیر تھے۔ ان کے لڑکے ابوبکر ایک کاتب سے’’کتاب الاغانی‘‘ کی کتابت کروا رہے تھے۔ درمیان میں ایک روز انہیں کتابت شدہ حصہ کو اصل نسخہ سے ملا کر اس کی تصحیح کرنا تھا۔ اس وقت کتابت کا اصل نسخہ موجود نہ تھا۔ انہوں نے کسی آدمی کو اصل نسخہ لانے کے لیے باہر بھیجا تھا۔ اس درمیان میں ایک بوڑھا آدمی وہاں آ گیا جو بظاہر غیر اہم تھا۔ بات چیت کے دوران اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader