Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

کو معلوم ہوا کہ ابو بکر کے ہاتھ میں کتاب الاغانی ہے اور وہ مقابلہ کر کے اس کی تصحیح کرنے کے لیے اصل نسخہ کا انتظار کر رہے ہیں۔ بوڑھے آدمی نے کہا کہ میں بولتا ہوں، تم اپنی کتاب کھول کر ملا لو۔ ابو بکر نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کتاب ہے۔ بوڑھے آدمی نے کہا کہ کتاب تو نہیں ہے، البتہ یہ کتاب مجھ کو یاد ہے۔ اس کے بعد بوڑھے آدمی نے اپنے حافظہ سے کتاب پڑھنا شروع کیا اور ابو بکر اپنے کتابت شدہ نسخہ کو کھول کر اس سے ملانے لگے۔ ابو بکر کو سخت حیرت ہوئی جب انہوں نے دیکھا کہ ایک لفظ کے فرق کے بغیر بوڑھا آدمی کتاب کو دہراتے چلا جا رہا ہے۔ ابو بکر حیرانی کے عالم میں گھر کے اندر گئے اور اپنے باپ کو پورا قصہ سنایا۔ ان کے باپ ابو مروان عبد الملک ننگے پاؤں بھاگ کر باہر آئے۔ انہوں نے اس بوڑھے آدمی کو گلے سے لگایا۔ ان کی ضیافت کی اور پھر اعزاز کے ساتھ سواری دے کر انہیں رخصت کیا۔ اس کے جانے کے بعد بیٹے نے پوچھا کہ یہ بوڑھا آدمی کون تھا۔ باپ نے جواب دیا کہ تمہارا برا ہو، یہ اندلس کے ادیب اور علم و ادب میں اس کے سردار ابن عبدون ہیں (وَيْحَكَ! هَذَا أَدِيبُ الأَنْدُلُسِ وَإِمَامُهَا وَسَيِّدُهَا فِي عِلْمِ الآداب، هذا أبو محمد عبد المجيد بن عبدون ) المعجب في تلخيص أخبار المغرب، صفحہ 70۔ اسپین کے مسلم عہد میں جو بڑی بڑی شخصیات پیدا ہوئیں ان میں سے ایک ابن حزم ہیں۔ وہ قرطبہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا زمانہ 384 ھ اور 456 ھ کے درمیان ہے۔ یہ زمانہ مسلم اسپین کا انتہائی اختلاف کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ کے اندلس میں مالکی فقہاء کا غلبہ تھا جو قیاس سے کام لینے میں حد سے تجاوز کر گئے تھے۔ ابن حزم نے سمجھا کہ فقہ میں قیاس کو داخل کرنا بس یہی اختلاف اور بگاڑ کا اصل سبب ہے۔ چنانچہ وہ قیاس کے منکر ہو گئے اور صرف ظاہر پر زور دینا شروع کر دیا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے کئی کتابیں لکھیں۔ ایک کتاب کا نام ہے: إبطال القياس والرأي والاستحسان والتقليد والتعليل ابن حزم نے لکھا کہ ان اللہ تعالیٰ يقول: وما اختلفتم فيه من شيئ فحكمه الى الله۔ ولم يقل سبحانه وتعالى فحكمه الى الرائ والقياس ( الاحکام فی اصول الاحکام، جلد 7، صفحہ 53)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page