سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
اس ظاہری مسلک کی بنا پر ابن حزم بہت زیادہ نزاعی شخصیت بن گئے۔ وہ کئی بار قید کیے گئے۔ ان کی تکفیر و تضلیل کی گئی۔ ان کی کتابیں جلا دی گئیں۔ حتیٰ کہ ان کی لکھی ہوئییں چار سو کتابوں میں سے اب بمشکل چالیس کتابیں دنیا میں باقی ہیں۔ اس موضوع پر ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ابن حزم کا کیس دراصل انتہا پسندی کا کیس ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اُس زمانہ کے فقہاء کثرت سے قیاس کا غلط استعمال (سوءِ استخدام) کر رہے تھے۔ لیکن اگر تمام فقہی کتابیں جلا دی جائیں اور صرف قرآن و حدیث دنیا میں رہ جائے تب بھی غلط استعمال کی برائی باقی رہے گی۔ کیونکہ غلط استعمال کا سبب متن میں نہیں ہوتا بلکہ آدمی کے اپنے ذہن میں ہوتا ہے۔ میں نے مزید کہا کہ فقہاء اسلام نے چار چیزوں کو مصادر شریعت قرار دیا ہے ــــ قرآن، سنت، اجماع، قیاس۔ میں سمجھتا ہوں کہ حدیث کے الفاظ کی اتباع کی جائے تو یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ مصادر شریعت تین ہیں : قرآن، سنت اور اجتہاد۔ اجتہاد سے مراد آزادانہ رائے نہیں ہے، بلکہ وہ رائے ہے جو قرآن و سنت کی بنیاد پر مخلصانہ طور پر قائم کی گئی ہو۔ اجتہاد کے مختلف درجے ہیں۔ انہیں درجات کا نام قیاس اور اجماع ہے۔ قاضی منذر بن سعید قرطبہ کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ 366ھ میں قرطبہ میں ان کی وفات ہوئی ۔ وہ علم اور زہد دونوں میں ممتاز درجہ رکھتے تھے۔ اپنے زمانہ کے اندلس میں وہ قاضی القضاۃ کے عہدہ پر مقرر ہوئے اور آخر تک اس عہدہ پر قائم رہے۔ ابن الاثیر نے اپنی کتاب الکامل فی التاریخ میں 366ھ کے حالات کے تحت لکھا ہے کہ سلطان عبد الرحمن الناصر نے جب الزهراء کا محل تعمیر کر لیا تو ایک دن وہ اپنے سونے کے تخت پر بیٹھا۔ دربار میں بڑے بڑے لوگ جمع تھے۔ سلطان نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا تم نے سنا ہے کہ کبھی کسی نے ایسا عالی شان محل بنایا ہو۔ حاضرین نے کہا کہ ہم نے نہ ایسا دیکھا اور نہ ایسا سنا (لم نر، ولم نسمع بمثلہ)۔ لوگوں نے خوب تعریف کی مگر قاضی منذر سر جھکائے بیٹھے رہے۔ آخر میں سلطان نے قاضی منذر سے بولنے کے لیے کہا۔ قاضی منذر رو پڑے اور ان کے آنسو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader