سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کی داڑھی تک آگئے۔ انہوں نے کہا: خدا کی قسم، میرا یہ گمان نہیں تھا کہ شیطان تمہارے اوپر اتنا زیادہ قابو پا جائے گا کہ وہ تم کو کافروں کے درجہ تک پہنچادے۔ سلطان نے کہا کہ دیکھیے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں اور کیسے آپ مجھے کافروں کے درجہ تک پہنچارہے ہیں۔ اس کے بعد قاضی منذر نے قرآن سے سورہ الزخرف کی آیات 35-33 پڑھیں۔ ان آیتوں کو سن کر سلطان عبد الرحمن سخت غمگین ہوا اور رونے لگا۔ اس نے کہا کہ اللہ آپ کو بہتر جز اعطا فرمائے اور مسلمانوں میں آپ جیسے بہت لوگ پیدا کرے۔ اسی طرح ایک بار اندلس میں قحط پڑا۔ سلطان عبد الرحمن نے ایک آدمی کو قاضی منذر کے پاس بھیجا اور کہلایا کہ قاضی صاحب بارش کے لیے دعا کریں۔ قاضی منذر نے قاصد سے پوچھا کہ سلطان خود کیا کر رہے ہیں۔ قاصد نے کہا کہ میں ان کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ انہوں نے شاہی لباس اتار کر معمولی کپڑے پہن لیے تھے اور زمین پر سر رکھ کر یہ کہہ رہے تھے کہ خدایا، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، کیا تو میری وجہ سے لوگوں کو عذاب میں مبتلا کرے گا (هذه ناصيتي بيدك، أترك تعذب هذا الخلق لأجلي؟)۔ قاضی منذر نے شاہی قاصد سے کہا کہ تم بارش لے کر جاؤ۔ کیوں کہ جب زمین کا بادشاہ عاجزی اختیار کرتا ہے تو آسمان کا بادشاہ رحم فرماتا ہے (إذا خشع جبار الأرض رحم جبار السماء)۔ اس کے بعد قاضی منذر باہر نکلے اور استسقاء کی نماز پڑھی۔ پھر منبر پر کھڑے ہو کر تقریر کی۔ لوگ تقریر سن کر رونے لگے جب وہ گھر لوٹے تو بارش شروع ہو چکی تھی (الکامل في التاريخ لابن اثیر، جلد 8، صفحہ (673-74۔ اس موضوع پر ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ بعد کے دور میں علماء کے درمیان یہ غلط روایت چل پڑی کہ لوگوں نے حکومت میں عہدہ لینے کو کمتر سمجھ کر اسے چھوڑ دیا۔ یہ عالم کے مفاخر میں شمار ہونے لگا کہ اس کو حکومت نے عہدہ کی پیش کش کی اور اس نے اسے ٹھکرا دیا۔ حالاں کہ یہ پیغمبرانہ سنت کے خلاف ہے۔ کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام نے مشرک بادشاہ کے یہاں عہدہ قبول کیا۔ میں نے کہا کہ یہ روش اسلامی مزاج کے مطابق نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علماء، صالحین اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader