Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

حکم رانوں کے پیچ میں دوری قائم ہوگئی۔ اس دوری کے نتیجہ میں بہت سے اعلیٰ مواقع استعمال ہونے سے رہ گئے۔ اسلام کی تاریخ کا یہ ایک افسوس ناک باب ہے کہ رجاء بن حیوہ اور قاضی ابو یوسف اور قاضی منذر اور شیخ احمد سرہندی جیسی مثالیں اس میں بہت کم پائی جاتی ہیں۔ اسپین کے مسلم عہد میں جو بڑے بڑے دماغ اٹھے ان میں سے ایک ممتاز نام ابن الطفیل کا ہے۔ وہ 1100ء میں اندلس میں وادی آش (Guadix) میں پیدا ہوا۔ 1185ء میں مراکش میں اس کی وفات ہوئی۔ الموحدین کا سلطان، ابو یوسف المنصور اس کے جنازہ میں شریک ہوا۔ ابن الطفیل ایک فلسفی اور طبیب تھا۔ اس کی تعلیم غرناطہ میں ہوئی۔ وہ ایک اور جنٹل فکر رکھنے والا فلسفی سمجھا جاتا ہے۔ اس کے حالات پر بہت سی کتابیں لکھی گئیں ۔ ان میں سے فرانسیسی مصنف لیون غوثیہ (Leon (Gauthier کی کتاب بہت اہم سمجھی جاتی ہے۔ اس کی ایک نسبتاً مختصر کتاب حَی بن یقظان کو بہت شہرت حاصل ہوئی۔ اس کا مطلب ہے - زندہ ابن بیدار (The living one, son of the vigilant) یہ ایک فلسفیانہ کہانی ہے۔ ایک انسان بچپن سے لے کر بڑی عمر تک خالص فطرت کے ماحول میں رہتا ہے۔ اس کا کسی انسان سے سابقہ پیش نہیں آتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود اپنی فطرت اور کائنات کے بے آمیز مطالعہ کے ذریعہ خدا کو پالیتا ہے۔ ابن طفیل اس دلچسپ کہانی کے ذریعہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ خدا ایک حقیقت ہے اور عین عقل انسانی کا تقاضا ہے۔ حَی بن یقظان ہی کے نمونہ پر بعد کو را بن سن کروسو (Robinson Crusoe) لکھی گئی۔ ابن طفیل کی اس کتاب کا ترجمہ تقریباً ستر زبانوں میں ہو چکا ہے۔ ڈچ زبان میں اس کا ترجمہ 1672ء میں ہوا۔ روسی زبان میں 1920 میں، اسپینی زبان میں 1934 میں۔ اس عربی کتاب کا پہلا ترجمہ لاطینی زبان میں 1671ء میں ہوا۔ یہ ترجمہ ایڈورڈ پوکوک (Edward Pococke) نے کیا تھا۔ مسلم اسپین میں ادب وشاعری کو بہت فروغ ہوا۔ چنانچہ کثیر تعداد میں شعراء پیدا ہوئے۔ خود اسپین کا پہلا اموی حکمراں عبدالرحمن الداخل بھی شاعر تھا۔ خلیفہ عبدالرحمن الناصر (الثالث) کے دربار کا ایک شاعر ابن عبدربہ (وفات 940ء) اس کے دور کی تعریف میں کہتا ہے کہ اللہ نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page