Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کا راستہ واضح کر دیا اور لوگ دین میں جوق در جوق داخل ہوگئے : قَدْ أَوْضَحَ اللَّهُ لِلْإِسْلَامِ مِنْهَاجاً وَالنَّاسُ قَدْ دَخَلُوا فِي الدِّينِ أَفْوَاجَا دوسرا شاعر مسلم سلطنت کے خاتمہ کے بعد کہتا ہے کہ کیا یہ شہر دین اسلام کا محفوظ قلعہ نہ تھا۔ مگر خدا نے اس کو ذلیل کر دیا : أَلَمْ تَكُ معقلاً للدين صعبا فذلله كما شاء القدير ایک اور شاعر کے مرثیہ کا ایک شعر یہ ہے کہ ہر چیز جب مکمل ہو جاتی ہے تو اس میں نقص کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس لیے کسی آدمی کو خوش گوار زندگی سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے : لِكُلِّ شَيْءٍ إِذَا مَاتَمْ نُقْصَانُ فَلَا يُغَرُّ بِطِيبِ الْعَيْشِ إِنْسَانُ یہ تین اشعار نہ صرف اسپین کے مسلم دور کی تصویریں ہیں بلکہ اس میں پوری دنیا میں مسلمانوں کے عروج و زوال کا نقشہ دیکھا جا سکتا ہے۔ اندلس میں دوسری ترقیوں کے ساتھ فن موسیقی اور آلات موسیقی کی بھی کافی ترقی ہوئی۔ اس موضوع پر مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں۔ میں نے عبدالعزیز بن عبدالجلیل کی کتاب الموسيقى الاندلسية المغربية دیکھی۔ یہ کتاب 1988ء میں کویت سے چھپی ہے۔ وہ 270 صفحات پر مشتمل ہے۔ تاہم اس موضوع سے نا آشنا ہونے کی بنا پر وہ میری سمجھ میں زیادہ نہ آسکی۔ اسپین کی مسلم سلطنت کے زوال کے بعد جب ان حکمرانوں کی بنائی ہوئی عمارتیں کھنڈر یا غیر آباد ہو چکی تھیں ۔ ان کے محلوں اور باغوں میں انسانوں کے بجائے جانور رہنے لگے تھے۔ اس زمانہ میں 435 ھ میں ابو الحزم جہور بن محمد کا گزر مدینہ الزھراء سے ہوا۔ اس نے جب شاہی دور کی اس برباد عمارتوں کو دیکھا تو اس پر ایک عجیب حیرت طاری ہو گئی۔ اس نے اپنے تاثر کا اظہار ان اشعار میں کیا ہے : قلت يوماً لدار قوم تفانوا أين سكانك الكرام علينا فأجابت هنا أقاموا قليلاً ثم ساروا وليست أعلم أينا یعنی وہ قوم جو فنا ہوگئی ، میں نے ایک دن اس کے مسکن سے پوچھا تمھارے وہ مکین کہاں گئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page