سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
جوہم کو بہت عزیز تھے۔ اس نے جواب دیا کہ تھوڑے دن وہ یہاں ٹھہرے تھے۔ پھر وہ چلے گئے اور مجھ کو نہیں معلوم کہ وہ کدھر گئے (جذوۃ المقتبس ، صفحہ 189) یہ صرف مدینۃ الزھراء کے باشندوں کی کہانی نہیں، یہی تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ اس دنیا میں جو بھی آتا ہے، تھوڑی مدت کے بعد وہ اس طرح یہاں سے چلا جاتا ہے کہ اس کے چھوڑے ہوئے کھنڈروں کے سوا کوئی اور نشان اس کا یہاں باقی نہیں رہتا۔ اسپینی زبان میں ابھی تک ایک مثل ہے جس کا ترجمہ عربی میں ایک شخص نے اس طرح کیا: كُلّ مَن احبّه الله رزقه منزلاً فی اشبیلیه (جس آدمی سے خدا محبت کرتا ہے، اس کو اشبیلیہ میں ایک مکان دے دیتا ہے)۔ یہ مثل اس وقت بنی جب اشبیلیہ (اور دوسرے اندلسی شہروں میں) مسلم تمدن کا غلبہ تھا۔ اس وقت یہ شہر عمدہ مکانات، سڑکیں، باغات اور صاف ستھری زندگی کے لیے ایک عالمی نمونہ بنے ہوئے تھے۔ المعتمد بن عباد اسی اشبیلیہ کا حکمراں تھا۔ یہاں ابھی تک ایک قدیم عمارت الکازار کے نام سے ہے۔ جوا لقصر کی اسپینی صورت ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عرب نے فخر کے ساتھ اس واقعہ کو دہرایا کہ ملوک الطوائف کے زمانہ میں جب عیسائیوں کے حوصلے بڑھ گئے اور المعتمد بن عباد نے افریقہ کے حکمراں یوسف بن تاشفین کو مدد کے لیے بلایا۔ اس وقت ایک مسلمان نے اس کو یہ کہہ کر ڈرایا کہ جب یوسف بن تاشفین یہاں اپنی فوجوں کو لیکر آئے گا تو وہ تم کو بے دخل کر کے خود تمہاری سلطنت پر قبضہ کر لے گا۔ المعتمد نے جواب دیا: رَعْيُ الجَمال خير من رعي الخنازير (تاریخ الاسلام للذهبی، جلد 32، صفحہ 25)۔ یعنی اگر میں ایک عرب بادشاہ کا قیدی بن کر اس کا اونٹ چراؤں تو یہ اس سے بہتر ہے کہ میں ایک فرنگی بادشاہ کا قیدی بن کر اس کے خنزیروں کو چراؤں۔ ایک صاحب نے فخر کے ساتھ اس قول کو دہرایا۔ میں نے کہا کہ انسانوں کو ’اونٹ‘ اور ’خنزیر‘ میں بانٹنا یہ خالص قومی مزاج ہے۔ مومن کا مزاج داعیانہ مزاج ہوتا ہے۔ وہ تمام انسانوں کو اللہ کے بندوں کے روپ میں دیکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی غیر داعیانہ مزاج اندلسی مسلمانوں کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader