Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

تباہی کا سبب بنا۔ عیسائیوں کو ”خنزیر“ سمجھنے کے بجائے اگر وہ ان کو ”مدعو“ سمجھتے تو شاید اسپین کی تاریخ دوسری ہوتی۔ ایک عرب سیاح نے اپنے اسپینی سفر کے تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ جب میں نے قرطبہ کی تاریخی یادگاریں دیکھیں جو ابھی تک اپنی عظمت کی داستان سنا رہی ہیں تو بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت حالت یہ تھی کہ سیاحوں کے قافلے میرے پاس سے گزر رہے تھے اور وہ میری حالت کو دیکھ کر سمجھ جاتے تھے کہ یہ ایک عربی ہے جو اپنے اسلاف کی عظمت پر رورہا ہے: تمر بی قوافل السياح فيعرفون انی عربی ابکی مجد اجدادی میں نے کہا کہ اس قسم کی عمارتوں کو دیکھ کر مجھے بھی رونا آتا ہے۔ مگر میرا رونا اسلاف کی عظمت کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اس پر ہوتا ہے کہ انسان کتنا زیادہ نادان ہے کہ ایسی چیزوں کے اوپر اپنی عظمت کا محل کھڑا کرتا ہے جو آخر کار کھنڈر ہو جانے والی ہیں۔ غرناطہ کے قصر الحمراء میں ایک جگہ ایک بورڈ لگا ہوا ہے جس میں بڑی عبرت ہے۔ اس دیواری کتبہ میں اسپینی زبان میں لکھا ہوا ہے کہ میکسیکو کا ایک سیاح آری ایکاسا الحمراء کو دیکھنے کے لیے آیا۔ اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی تھی۔ جب وہ دونوں محو حیرت ہو کر اس تاریخی محل کو دیکھ رہے تھے تو عین اسی وقت ایک سائل وہاں آ گیا جو کہ اندھا تھا۔ سیاح نے سائل کو دیکھ کر اپنی بیوی سے کہا: اے خاتون، اس کو زیادہ صدقہ دے دو کیوں کہ کسی آدمی کی اس سے بڑی کوئی بدبختی نہیں ہو سکتی کہ وہ غرناطہ کے قصر کے سامنے کھڑا ہو مگر وہ اس کو دیکھنے کے لیے اندھا ہو۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اس سے بھی زیادہ بدقسمت وہ آنکھوں والا انسان ہے جو فطرت کی حسین تر دنیا کے سامنے ہو مگر وہ اس میں خدا کا جلوہ دیکھنے سے محروم رہے۔ قصر الحمراء کے ایک کمرہ کے سامنے ایک تختی لگی ہوئی ہے۔ اس پر لکھا ہوا ہے کہ یہاں واشنگٹن ارونگ نے قیام کیا تھا۔ ارونگ (Washington Irving) ایک امریکی ادیب تھا۔ ایک امریکی ادارہ نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page