Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 77

By Maulana Wahiduddin Khan

1826ء میں اس کو اسپین بھیجا۔ یہاں آ کر جب اس نے غرناطہ کو دیکھا تو اس کی خوبصورتی پر وہ اتنا گرویدہ ہوا کہ وہ یہیں مقیم ہوگیا اور غرناطہ اور الحمراء کے بارے میں اپنی دو کتابیں لکھیں: Irving had become absorbed in the legends of the Moorish واشنگٹن ارونگ 1783ء میں نیو یارک میں پیدا ہوا اور وہیں 1859ء میں اس کا انتقال ہوا۔ الحمراء قلعہ اور محل دونوں تھا جس طرح دہلی کا لال قلعہ دونوں ہے۔ یہ اندلس کے مسلم حکمرانوں نے غرناطہ میں بنایا تھا۔ یہ قصر بنیادی طور پر 1238ء اور 1358ء کے درمیان بنایا گیا۔ 1492ء میں جب اندلس میں مسلمانوں کی حکومت آخری طور پر ختم ہوئی تو یہ قصر بھی زد میں آیا۔ اس کے بعد کئی بار اس عمارت کو نقصان پہنچا۔ تاہم 1828ء میں اس کی مرمت کر کے اس کو دوبارہ دلکش بنانے کی کوشش کی گئی۔ موجودہ الحمراء میں کچھ حصہ مسلمانوں کا بنایا ہوا ہے اور کچھ حصہ بعد کے عیسائی حکمرانوں کا۔ الحمراء کے ایک خاص حصے میں سفید سنگ مرمر سے بنے ہوئے بارہ شیر ہیں۔ یہ گویا طاقت اور ہمت کی علامت ہیں۔ قصر کے اس حصہ کے مختلف نام ہیں—فناء السباع، ديوان الاسد، مأسدة بيت الاسود۔ الحمراء صرف ایک محل نہیں، وہ نہایت وسیع باغات کے درمیان بیرون شہر گویا ایک شاہی اقامت گاہ تھی۔ اس کی تعمیر پر بہت زیادہ دولت خرچ کی گئی۔ تاہم اس کا تعمیری سامان زیادہ مضبوط نہ تھا۔ اپنے عظیم حسن کے باوجود وہ غیر مستحکم تعمیری سامان کے ذریعہ بنی ہوئی ایک عمارت کہی جائے گی۔ الحمراء کے محلات اس وقت بنائے گئے جب کہ یہاں کی مسلم حکومت سمٹ کر صرف غرناطہ تک محدود ہوگئی تھی۔ اس کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ لال قلعہ کے حکمران اس کی طرح وہ باہر سے مضبوط پتھر بڑی مقدار میں منگا سکے، وہ زیادہ مستحکم عمارت کھڑی نہیں کر سکتے تھے، اس لیے شاید اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لیے انہوں نے زیادہ خوب صورت عمارتیں کھڑی کر دیں۔ قصر الحمراء 2200 مربع میٹر کے رقبہ میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کے ہر حصہ میں آیتیں، حدیثیں،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page