Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

فرانسیسی زبان میں شائع ہوا۔ اس کے بعد ہی ایسا ہوا کہ ابن خلدون کو اپنی عظیم حیثیت کے مطابق عالمی مقام ملے: ایک مستشرق نے اپنا ایک مقالہ دکھایا۔ اس کا ایک حصہ ابن خلدون کے بارے میں تھا۔ اس نے لکھا تھا کہ عباسی خلافت کے بعد اسلامی حکومت کا آرتھوڈاکس پولیٹیکل نظریہ ایک بحران کا شکار ہو گیا۔ ابن خلدون نے سیاسی ڈھانچہ کے مقابلہ میں سماجی اور طبیعیاتی طاقتوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اس نے عباسی خلافت کے تحت کلاسیکل سیاسی اتحاد کے تصور کو رد کر دیا۔ البتہ اس نے تمام مسلمانوں کے روحانی اتحاد کا اقرار کیا: مذکورہ فرانسیسی مستشرق نے پوچھا کہ ابن خلدون کے اس نظریہ کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ میں نے کہا کہ میں مزید اضافہ کے ساتھ اس کو صحیح مانتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح یورپی نو آبادیات کے زمانہ میں سفید فام کی ذمہ داری (White man's burden) کا نظریہ اس کی تبریر کے لیے گھڑا گیا، اسی طرح عباسی دور میں عالمی خلافت کا نظریہ اس کی مذہبی حمایت کے لیے وضع کیا گیا۔ قرآن و سنت میں وہ سراسر اجنبی ہے۔ قرآن و حدیث کے مطابق، روحانی ترقی اور روحانی اتحاد مسلمانوں کی مستقل ذمہ داری ہے اور سیاسی اقتدار صرف ایک عارضی خدائی انعام۔ میں نے کہا کہ اسی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے آج مسلم دنیا قتل و خوں ریزی کا کارخانہ بنی ہوئی ہے۔ مصر اور الجزائر سے لے کر بوسنیا اور کشمیر تک اسی بے بنیاد سیاسی نظریہ کے تحت بے فائدہ جنگ جوئی کا عمل جاری ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو ہر جگہ مذہبی، روحانی اور دعوتی مواقع حاصل ہیں مگر وہ اس کو استعمال نہیں کر رہے ہیں۔ وہ بس سیاست کی چٹان پر اپنا سر پٹک رہے ہیں، کیونکہ اپنی غلط سوچ کی بنا پر انہیں اس کے سوا کوئی اور کام دکھائی نہیں دیتا۔ میری پسندیدہ تفسیروں میں سے ایک خاص تفسیر الجامع لاحکام القرآن ہے۔ یہ تفسیر اسپین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page