Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

(قرطبہ) میں لکھی گئی ۔ اس کے مولف ابو عبداللہ محمد بن احمد بن ابی بکر بن فرح الانصاری ہیں۔ وہ قرطبہ کے ایک بڑے عالم تھے۔ اسی لیے وہ القرطبی کے نام سے مشہور ہیں۔ انہوں نے 671 ھ میں وفات پائی۔ القرطبی کا فقہی مسلک مالکی تھا۔ مگر اپنی بے تعصبی کی بنا پر انہوں نے کئی جگہ امام مالک کے مسلک سے اختلاف کیا ہے۔ مثال کے طور پر امام مالک نماز میں بچہ کی امامت کو نا جائز بتاتے ہیں۔ مگر القرطبی اس سے اختلاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بچہ کا نماز میں امام بنانا جائز ہے جب کہ وہ قرآن کی قرأت کرنا جانتا ہو (اِمامَةُ الصَّغِيرِ جَائِزَةٌ إِذَا كَانَ قَارِئًا) تفسیر القرطبی، جلد 1، صفحہ 353۔ اسی طرح امام مالک کا مسلک یہ ہے کہ رمضان میں روزہ رکھنے والا ایک شخص اگر بھول کر کھا لے تو اس کو قضا کا روزہ رکھنا ہوگا۔ مگر القرطبی اس رائے کو رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ امام مالک کے سوا دوسرے فقہاء کے نزدیک بھول کر کھانے والے کے اوپر روزہ کی قضا نہیں ہے اور میں کہتا ہوں کہ یہی مسلک صحیح ہے (قُلْتُ: وَ هُوَ الصَّحِيحُ) تفسیر القرطبی، جلد 2، صفحہ 322۔ موجودہ زمانہ میں علمی ذوق اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ آدمی یا تو کلی موافق ہو سکتا ہے یا کلی مخالف۔ اگر کوئی شخص، مثال کے طور پر، ایک جماعت کو مفید جماعت بتائے مگر اس کے بعض طریقوں سے وہ اختلاف کرے تو کہا جائے گا کہ یہ شخص مصلحت پرست ہے۔ اصل میں تو وہ اس جماعت کا مخالف ہے، مگر مفاد کی بنا پر وہ اس کی تعریف کر رہا ہے۔ مسلم اسپین میں پیدا ہونے والی علمی شخصیتوں میں سے ایک ممتاز شخصیت ابو القاسم الزہراوی (Abulcasis) کی ہے۔ اس کی کتاب التصريف لاطینی زبان میں 1497ء میں شائع ہوئی اور اس کے بعد یورپ کی تمام اہم زبانوں میں اس کا ترجمہ کیا گیا۔ یہ کتاب تقریباً 500 سال تک اہل یورپ کے لیے طب اور سرجری میں مرجع بنی رہی۔ ہٹی کے الفاظ میں، اس نے یورپ میں جراحی کی بنیاد قائم کرنے میں مدد دی: It helped lay the foundation of surgery in Europe. (p.577) زہراوی سے پہلے سرجری (جراحی) کا کام پچنہ لگانے والے کیا کرتے تھے۔ وہ اصولِ طب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page