سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
اور علم تشریح الاعضاء کی بنیاد پر نہیں بلکہ محض اپنے خاندانی رواج کے تحت جراحی کا کام کرتے تھے اور اکثر مریضوں کو سخت نقصان پہنچاتے۔ زہراوی نے جراحی (آپریشن) کو علم تشریح الاعضاء کی بنیاد پر قائم کیا۔ اس نے انسانی جسم کا گہرامطالعہ کر کے اس کے اصول مقرر کیے۔ وہ اپنے شاگردوں سے کہا کرتا تھا کہ پہلے تم انسانی جسم کا تشریحی مطالعہ کرو اور یہ جانو کہ وریدیں اور شرریانیں اور اعصاب کہاں واقع ہیں، اس کے بعد جراحی کا کام کرو۔ اس نے مشاہدہ اور تجربہ کو جراحی کا لازمی حصہ قرار دیا۔ زہراوی نے فن جراحت میں بہت سی نئی نئی باتیں دریافت کیں۔ مسلم اسپین کی تاریخ میں ہر قسم کی سبق آموز مثالیں موجود ہیں۔ یہاں کے مسلم حکمرانوں سے ایک نامور حکمران سلطان عبد الرحمن الثالث ہے۔ وہ 300ھ میں قرطبہ کے تخت پر بیٹھا اور پچاس سال تک حکومت کی۔ اس کا زمانہ سلطنت ہر اعتبار سے نہایت ممتاز سمجھا جاتا ہے۔ یہی سلطان ہے جس نے مشہور قصر الزہراء تعمیر کرایا تھا، جواپنے زمانہ میں دنیا کا سب سے زیادہ عالی شان محل سمجھا جاتا تھا۔ مگر زمانہ نے اس محل کو اس طرح مٹایا کہ آج آپ قرطبہ جائیں تو وہاں آپ کو اس کے صرف کھنڈر دکھائی دیں گے۔ قصر الزہراء میں آرام وعیش اور شان وشوکت کی تمام ممکن چیزیں اکٹھا کی گئی تھیں۔ 350ھ میں اسی قصر شاہی میں عبد الرحمن الثالث کا انتقال ہوا۔ اس کی وفات کے بعد اس کی چھوڑی ہوئی چیزوں میں ایک کاغذ ملا۔ اس میں سلطان نے اپنے ان دنوں کا حال خود اپنے قلم سے لکھا تھا جو غم سے خالی تھے۔ مگر پچاس سالہ دور حکومت میں ایسے بے فکری کے ایام کی تعداد صرف چودہ دن تھی۔ سلطان کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا ابن عبد الرحمن قرطبہ کے تخت پر بیٹھا۔ قصر الزہراء جو اس کے باپ نے بے پناہ محنت اور لا تعداد دولت کے ذریعہ بنایا تھا اس کو وراثت میں مل گیا۔ اس نے اپنا شاہی لقب المستنصر باللہ اختیار کیا۔ الحکم نے پندرہ سال تک نہایت شان وشوکت کے ساتھ حکومت کی۔ مگر اس کے بھی آخری ایام مایوسی کے ایام تھے۔ کیوں کہ آخری زمانہ میں وہ مفلوج ہو گیا اور فالج کی حالت ہی میں 366ھ میں قرطبہ میں اس کا انتقال ہو گیا (توفی بقرطبة مفلوجاً) الاعلام للزركلی، جلد 2، صفحہ 267۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader