Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

قصر الزہراء نہایت خوبصورت ہونے کے ساتھ بہت بڑا تھا۔ اسی لیے اس کو مدینتہ الزہراء کہا جاتا تھا۔ اس میں تفرّح اور عیش کے تمام اسباب اکٹھا کیے گئے تھے۔ وہ چالیس سال میں بن کر تیار ہوا تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس کے جلد ہی بعد زوال شروع ہوا اور تعمیر کے بعد چالیس سال سے بھی کم مدت میں وہ کھنڈر ہو کر رہ گیا۔ کہا جاتا ہے کہ قاضی منذر نے اس کی بابت یہ شعر کہے تھے کہ اے زہراء کو بنانے والے جو اپنے وقت کو اس میں غرق کیے ہوئے ہے، کیا تم ٹھہر کر غور نہیں کرتے۔ وہ کتنا زیادہ خوبصورت ہے، بشرطیکہ اس کی رونق پژمردہ نہ ہوتی: لَوْ لَمْ تَكُنْ زَهْرُتُھَا تَذْبُلُ أَوْقَاتُهُ فِيهَا أَمَا تُمُھِلْ لِلّٰهِ مَا أَحْسَنَهَا رَوْنَقاً لَوْلَمْ تَكُنْ زَهْرُتُھَاتَذْبُلُ اندلس میں عربوں نے جو سیاسی نظام قائم کیا وہ اس طرح تھا کہ ایک ان کا مرکزی سلطان یا خلیفہ ہوتا تھا اور مختلف علاقائی حصوں میں ماتحت امیر ہوا کرتے تھے جن کو آج کل کی زبان میں گورنر کہا جا سکتا ہے۔ ابتداء کئی سوسال تک عربوں میں سے امراء مقرر کیے جاتے تھے۔ کیوں کہ یہ خیال تھا کہ وہ ہم نسل ہونے کی بنا پر زیادہ قابلِ اعتماد ثابت ہوں گے۔ مگر اس دنیا میں ہمیشہ ہر دوسری چیز پر انٹرسٹ فائق ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ سیاسی انٹرسٹ نے ان امراء کے اندر بغاوت کا رجحان پیدا کیا۔ ہر عرب اپنے علاقہ کو مرکز سے الگ کر کے خود مختاری کا خواب دیکھنے لگا۔ اس کے نتیجہ میں مرکزی سلطان اور امراء کے درمیان لڑائیاں جاری ہوگئیں۔ عبدالرحمن الثالث نے اس پالیسی کو بدلا۔ اس نے عرب امراء کا زور توڑنے کے لیے برابر قبائل میں سے امیر اور وزیر مقرر کرنا شروع کیا۔ ابتداء میں یہ لوگ بہت وفادار رہے۔ کیوں کہ امیر اور وزیر کے عہدے ان کی توقعات سے بہت زیادہ تھے۔ مگر دھیرے دھیرے جب وہ دولت اور اقتدار سے آشنا ہو گئے تو ان کے ذہن میں بھی بغاوت کے خیالات پرورش پانے لگے۔ عبدالرحمن الثالث کی زندگی تک تو یہ لوگ دبے رہے۔ مگر اس کی موت کے بعد وہ سب کے سب سرکش بن کر کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے راجدھانی قرطبہ پر حملے کئے ۔ قصر الزہراء کو تباہ کر ڈالا۔ ہر شہر اور ہر علاقہ کا امیر مرکز کا باغی ہو گیا۔ حتی کہ اندلس میں تقریباً دو درجن چھوٹی چھوٹی سلطنتیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page