Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

قائم ہو گئیں ۔ جن کو الگ الگ فتح کرنا عیسائیوں کے لیے آسان ہو گیا ۔ سرکشی اور بغاوت کا تعلق عرب اور غیر عرب سے نہیں ہے، اس کا تمام تر تعلق انٹرسٹ سے ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی اپنے انٹرسٹ کی طرف دوڑتا ہے۔ اسی سے انتشار اور بغاوت کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اس سے روکنے والی چیز صرف تقویٰ ہے اور ایسا تقویٰ کسی بہت خوش نصیب آدمی ہی کو ملتا ہے جو انٹرسٹ کے خلاف اس کے لیے چیک بن جائے۔ روایت کو توڑنے سے کتنی بڑی خرابی آتی ہے، اس کی بہت سی مثالیں اسپین کی مسلم تاریخ میں موجود ہیں۔ مثلاً سلطنت غرناطہ کا تیسرا حکمراں محمد مخلوع تھا۔ اس کو اس کے بھائی نصر بن محمد نے 710ھ میں قتل کرا دیا تاکہ اس کا کوئی سیاسی رقیب باقی نہ رہے۔ مگر یہ جان کے احترام کی روایت کو توڑنا تھا۔ چنانچہ اس کے بعد حکمرانوں کے قتل کا لمبا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس کے بعد سلطان ابو الولید کو اس کے بھتیجے نے 725ھ میں قتل کر ڈالا۔ اس کے بعد سلطان محمد غرناطہ کے تخت پر بیٹھا۔ اس کو بھی اس کے رشتہ داروں نے 733ھ میں قتل کر دیا۔ اس کے بعد سلطان یوسف کو حاکم بنایا گیا ۔ مگر وہ بھی 755ھ میں نیزہ مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ پھر سلطان اسماعیل تخت نشین ہوا ۔ مگر 761ھ میں خود اس کے بھائی نے اس کو قتل کر ڈالا۔ وغیرہ کسی سماج میں یہ روایت قائم کرنا ہو کہ انسانی جان کا احترام کیا جانا چاہیے اور اس کو کسی حال میں قتل نہیں کرنا چاہیے، تو یہ روایت ایک لمبی تاریخ کے بعد بنے گی۔ مگر اس روایت کو توڑنے کے لیے کسی مدت کی ضرورت نہیں اور جب کوئی روایت ایک بار توڑ دی جائے تو پھر اس کو از سر نو قائم کرنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔ روایت شکنی کے اسی خطرہ سے حدیث میں اس طرح آگاہ کیا گیا تھا: إِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ (سنن الترمذي، حديث نمبر 2202)۔ یعنی، میری امت میں جب تلوار باہر آ جائے گی تو وہ اس سے قیامت تک اٹھائی نہیں جائے گی۔ سقوط اندلس پر بہت سے شاعروں نے مرثیے لکھے ہیں۔ ان میں زیادہ تر فریاد و ماتم کا انداز ہے۔ تاہم مجھے ابو علی الحسن بن رشیق کے دو شعر بہت پسند ہیں۔ اس نے کہا کہ اندلس کی سرزمین میں جو چیز مجھے بے لطف کرتی ہے ان میں سے معتمد (جس پر اعتماد کیا جائے) اور معتضد (نہایت مضبوط)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page