سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
جیسے القاب ہیں۔ یہ شاہانہ القاب اسی طرح غیر حقیقی ہیں جیسے کوئی بلی ننھے پھلا کر شیر کی صورت کی نقل کرنے لگے : مما یز ھُدنی فی ارضِ اَندلُس اسماءُ مُعتَمَدٍ فِیھا وُ مُعتَضِد القابُ مملكةٍ فی غیرِ موضعھا کَالھِرِّ یحکی انتفاخاً صورةَ الاسَد یہ دونوں شعر ابنِ خلدون نے اپنے مقدمہ میں خلافت کی بحث کے تحت نقل کیے ہیں (صفحہ _(229 ایک حاكم کو جب سادہ طور پر امیر المومنین کہا جائے تو اس کے نہ رہنے سے لوگوں میں صرف یہ احساس پیدا ہوگا کہ ہمارا سیاسی خاکا نہ رہا۔ لیکن اگر اس کو جہاں پناہ اور محافظِ اسلام جیسے القاب سے یاد کیا جانے لگے تو اس کے ہٹنے کے بعد لوگوں کو ایسا محسوس ہوگا کہ وہ آخری طور پر لٹ گئے۔ اب ان کے پاس قیام حیات کے لیے کچھ باقی نہیں رہا۔ مسلم اسپین صرف تمدنی ترقی ہی کی مثال نہیں تھا۔ اسی کے ساتھ وہ رواداری کی بھی نہایت اعلیٰ مثال تھا۔ عرب اپنے مزاج کے اعتبار سے نہایت فیاض اور روادار واقع ہوئے تھے۔ اسی کے ساتھ وہاں کے کام کی نوعیت یہ تھی کہ مسلم اہلِ علم کے ساتھ یہودی اور عیسائی اہلِ علم اور فن کار بھی مساوی طور پر شریک رہتے تھے۔ اس طرح اشتراکِ عمل کے ماحول نے باہمی رواداری کا ماحول بھی اپنے آپ پیدا کر دیا تھا۔ فرانسیسی مستشرق رینان (Renan) نے ابنِ رشد پر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ سائنس اور لٹریچر کے ذوق نے دسویں صدی میں دنیا کے اس خصوصی گوشہ میں رواداری کا ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا کہ موجودہ زمانہ میں مشکل سے کہیں مل سکتا ہے۔ مسیحی ، یہودی اور مسلمان ایک ہی زبان (عربی) بولتے تھے۔ ایک ہی گیت گاتے تھے۔ ایک ہی طرح ادبی اور علمی مطالعہ میں حصہ لیتے تھے۔ وہ تمام رکاوٹیں جو لوگوں کو الگ الگ کرنے والی ہیں، وہ سب وہاں ختم کر دی گئی تھیں۔ تمام کے تمام لوگ ایک مشترک تہذیب کے لیے مل کر کام کرتے تھے : The taste for science and Literature had, by the tenth century, established, in this privileged corner of the world, a toleration of which modern times hardly offer us an example.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader