سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
اب سوال یہ ہے کہ جب مسلم اسپین میں اتنا زیادہ رواداری کا ماحول تھا، پھر کیوں ایسا ہوا کہ وہاں کے مسیحی باشندے مسلمانوں کے دشمن ہو گئے اور ان کو وحشیانہ طور پر اپنے ملک سے نکالنا شروع کر دیا۔ اس کا سبب جو اس سفر کے بعد میرے علم میں آیا وہ یہاں کے مذہبی طبقہ کا جنون تھا۔ اصل یہ ہے کہ مسلم اسپین کے روادارانہ ماحول کا یہ نتیجہ ہوا کہ اسپین کے مسیحی باشندے خود بخود کثرت سے مسلمان ہونے لگے۔ بہت سے لوگ جنہوں نے اپنا مذہب نہیں بدلا، انہوں نے مسلمانوں کی تہذیب اختیار کر لی۔ چنانچہ ان کو مستعرب (Mozarab) کہا جانے لگا۔ مسیحی چرچ کے لیے یہ ناقابل برداشت تھا۔ مسلمانوں کے ذریعہ اسپین میں علوم کے دروازے کھلنا، زراعت، صنعت، تعمیرات اور دوسرے شعبوں میں غیر معمولی ترقی، سماجی زندگی میں انصاف اور رواداری کا آنا، اس قسم کی تمام مثبت چیزیں ان کے لیے غیر اہم بن گئیں۔ ان کو صرف یہ یاد رہا کہ ان کے ہم مذہب تیزی سے غیر مسیحی تہذیب کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اسپین کے مسیحیوں کو مسلمانوں سے روکنا شروع کیا۔ انہوں نے مختلف طریقوں سے مسلمانوں اور مسیحیوں میں دوری پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ آخر میں انہوں نے وہ مجنونانہ تدبیر اختیار کی جس کو عام طور پر رضا کارانہ شہادت (voluntary martyrdom) کہا جاتا ہے (ہسٹری آف دی عربس، ایڈیشن 1970، صفحہ 516)۔ انہوں نے مسلمانوں کی نفسیات کا مطالعہ کر کے یہ نکالا کہ مسلمان اپنے پیغمبر کے خلاف باتوں کو سن کر بگڑ جاتے ہیں اور ایسے آدمی کو قتل کر دیتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سڑکوں پر نکل کر علی الاعلان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بدزبانی اور بدگوئی شروع کر دی۔ مقصد یہ تھا کہ مسلمان اشتعال ہو کر انہیں قتل کر ڈالیں اور اس طرح مسلمانوں کو بدنام کر کے مسیحیوں کو اسلام اور مسلمانوں سے متنفر کر دیا جائے۔ اس انوکھی تدبیر کا چیمپئن اسپین کا بشپ ایولوجیس (Eulogius) تھا۔ اس نے قرطبہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بار بار علی الاعلان سب وشتم کیا۔ اس کے بعد علماء کے فیصلہ کے مطابق، سلطان عبدالرحمن دوم نے 11 مارچ 859ء کو اسے بر سر عام قتل کرا دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader