سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح ایک کے بعد ایک مسیحی چرچ کے افراد عوامی مواقع پر آ کر شرتم رسول کا فعل کرتے رہے اور اس کے نتیجہ میں مسلم تلوار سے قتل کیے جاتے رہے۔ یہ واقعہ نویں صدی عیسوی میں قرطبہ میں پیش آیا جو اس وقت مسلم اسپین کا مرکز تھا۔ یہ عقوبت جس کے اسباب خود مسیحی لوگوں نے پیدا کیے تھے، آخر کار 53 مسیحیوں کے قتل تک جا پہنچی۔ اس قسم کے مجنونانہ واقعات نے اسپین کے مسیحیوں، خاص طور پر وہاں کے مذہبی طبقہ کے دل میں مسلمانوں کے خلاف سخت نفرت پیدا کر دی۔ یہاں تک کہ چرچ کے لیے آسان ہو گیا کہ وہ اسپین سے مسلمانوں کے اخراج کا فتویٰ جاری کر سکے۔ حکیم احمد شجاع صاحب کا خیال تھا کہ مدارس اسلامیہ کے نصاب میں علوم عصریہ کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے علامہ اقبال کو خط لکھا۔ اقبال نے انہیں جواب دیا کہ ان مدرسوں کو اسی حالت میں رہنے دو۔ اگر یہ مللا نہ رہے تو ہندوستانی مسلمانوں کا وہی حال ہو گا جو اندلس میں آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود وہاں کے مسلمانوں کا ہوا (الفرقمان، لکھنو، نومبر۔ دسمبر 1994 ، صفحہ (23)۔ میں سمجھتا ہوں کہ اقبال نے یہ بالکل الٹی بات کہی۔ اندلس جیسا حال کسی مسلم قوم کا اس وقت ہوتا ہے جب کہ اس کے علماء اجتہاد کی صلاحیت سے محروم ہو جائیں اور اجتہاد کی صلاحیت سے محرومی اس وقت آتی ہے جب کہ وہ وقت کے تقاضوں سے بے خبر ہو گئے ہوں۔ اندلس کے اصحاب چرچ نے جب "رضاکارانہ شہادت کا فتنہ کھڑا کیا، اس وقت وہاں کے علماء اگر اجتہادی صلاحیت کے حامل ہوتے اور مسیحی دنیا کے حالات سے پوری طرح باخبر ہوتے تو وہ فتویٰ دیتے کہ یہ چرچ کی ایک نہایت گہری سازش ہے۔ اگر ہم ان کو قتل کریں تو ہم خود ان کے مقصد کو پورا کرنے کا ذریعہ بن جائیں گے۔ اس لیے ہم کو انہیں قتل نہیں کرنا ہے بلکہ حکمت کے ساتھ ان کو نا کام بنا دینا ہے اور پھر وہ چرچ کی سازش کا توڑ اس طرح کرتے کہ اس کے جواب میں وہ تعارف اسلام کی پرامن مہم زور وشور کے ساتھ چلا دیتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ مسیحی عوام چرچ سے متنفر ہو کر تعلیمات محمدی کی طرف مائل ہو جاتے اور اتنی تیزی سے اسلام قبول کرتے کہ چرچ کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader