Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 87

By Maulana Wahiduddin Khan

سازش برعکس طور پر اندلس میں مسلمانوں کی مزید تقویت اور استحکام کا سبب بن جاتی۔ علماء کی حکیمانہ تدبیر چرچ کے پادریوں کو عوام کی نظر میں دیوانہ کا درجہ دے دیتی۔ مگر ان کی ناقص رہنمائی نے ان پادریوں کو اندلس کے مسیحیوں کی نظر میں شہید اور ہیرو کا مقام عطا کر دیا اور پھر وہ کچھ پیش آیا جو اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ ایک یورپی اسکالر (مستشرق) نے اسپین میں مسلم سلطنت کے زوال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اسپین میں داخل ہوئے تو ابتدائی مرحلہ میں طارق اور نصیر نے بغداد کی مدد سے یہاں کی مسیحی فوجوں پر فتح حاصل کی تھی۔ مگر آخری مرحلہ میں مسیحی قوتوں کے مقابلہ میں وہ اپنے مرکز کی مدد سے محروم رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اندلس میں قائم ہونے والی مسلم خلافت بغداد کی خلافت کی حریف بن گئی تھی۔ اس نے کبھی بھی بغداد کی مرکزی خلافت سے مصالحت کی کوشش نہیں کی: Raval caliphate of Cordova never reconciled itself to the central یہ بات درست معلوم ہوتی ہے۔ عبدالرحمن بن معاویہ اموی جب عباسیوں کی داروگیر سے بھاگ کر اندلس پہنچا تو اس وقت کے امیران اندلس خطبہ جمعہ میں بغداد کے خلیفہ کا نام لیتے تھے۔ عبد الرحمن نے ابتدا میں ایسا ہی کیا۔ مگر بعد کو اس نے خطبہ میں بغداد کے عباسی خلیفہ کا نام لینا بند کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایسا اس نے خاندان بنوامیہ کے ایک شخص عبدالملک بن عمر نے اندلس میں اپنی حکومت قائم کرنے کے سلسلہ میں عبد الرحمن کی مدد کی تھی: وَهَذَا عَبْدُ الْمَلِكِ هُوَ الَّذِي أَلْزَمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بِقَطْعِ خُطْبَةِ الْمَنْصُورِ وَقَالَ لَهُ: تُقَطِّعُهَا (188۔ یعنی عبدالملک ہی نے عبدالرحمن کو مجبور کیا کہ وہ خلیفہ منصور کا نام خطبہ میں لینا بند کردے۔ عبدالملک نے کہا کہ تم اس کو بند کرو ورنہ میں اپنے آپ کو ہلاک کرلوں گا۔ چنانچہ عبدالرحمن نے اس کا خطبہ پڑھنا بند کردیا حالاں کہ دس مہینہ تک اس نے خلیفہ بغداد ہی کا خطبہ پڑھا تھا۔ خلیفہ المنصور کو یہ خبر پہنچی تو وہ سخت غضب ناک ہوا۔ اس نے اندلس پر حملہ کرنے کا حکم دے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page