Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

دیا۔ اس کے بعد سے آخر تک بغداد کی خلافت اور اندلس کی مسلم ریاست کے درمیان معاونت کے بجائے رقابت کا رشتہ قائم ہو گیا۔ یہ رقابت صرف اس وقت ختم ہوئی جب کہ خود اندلس کی مسلم سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ ڈاکٹر حسین مونس کا سفر نامہ حدیث الفردوس الموعود: رحلة الأندلس کے نام سے 1963ء میں جدہ سے چھپا تھا۔ وہ ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب ادبی اور جذباتی انداز میں ہے۔ چنانچہ وہ خود لکھتے ہیں : لان موضوعه يمس عاطفة المسلم و وجدان العربی (صفحہ (9)۔ کیوں کہ اندلس کا موضوع مسلمانوں بطور خاص عربوں کے جذبات و احساسات سے جڑا ہوا ہے۔ مصنف نے ایک جگہ لکھا ہے کہ اہل اسپین ہم سے ایک بالشت زمین بھی سخت معرکہ اور دو طرفہ اموات کے بغیر حاصل نہیں کر سکے۔ پھر کیسے یہ کہا جاتا ہے کہ عرب اس زمانہ میں کمزور ہو گئے تھے ۔ ان پر عیش پسندی چھا گئی تھی۔ پھر جواب دیتے ہیں کہ جو ہوا وہ یہ تھا کہ قسمت نے اندلس میں ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ ڈھائی صدیوں میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں اٹھا جو قیادت اور سیاست اور تدبیر کا جامع ہو ( الذی حدث هو ان الحظ خاننا فی الاندلس۔ خلال هذين القرنين و نصف القرن لم يظهر رجل واحد جامع لصفات الزعامة والقيادة والسياسة والتدبير) صفحہ 166۔ اس جواب کے بعد دوبارہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ڈھائی سو سال میں کیوں قائدانہ اوصاف کے لوگ پیدا نہیں ہوئے، جب کہ اس سے پہلے بار بار ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ کا تعلق دور زوال سے تھا نہ کہ افراد کی عدم پیدائش سے۔ یہ زوال ہر سلطنت اور ہر قوم پر آتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی اس قانون فطرت سے مستثنیٰ نہیں۔ لکھنؤ کے عربی جریدہ الرائد (26-10 رمضان 1412ھ) میں الاستاذ انور الجندی کا ایک مضمون نقل کیا گیا تھا جس کا عنوان تھا: هذا واجبنا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ہم مسلمانوں کی آج شدید ترین ضرورت ہے کہ ہم اندلس کے المیہ کا مطالعہ کریں، کیوں کہ ہم پچھلے چالیس سال سے پھر اندلس کے مشابہ بحران میں مبتلا ہو گئے ہیں ( ونحن المسلمين اليوم في اشد الحاجة الی دراسة مأساة الاندلس لاننا منذ اربعين سنة قد وقعنا فی ازمة قريبة الشبه بها)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page