Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 89

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد مضمون میں کہا گیا تھا کہ آج دوبارہ ایسے حالات درپیش ہیں جو ہم کو اندلس جیسے المیہ میں مبتلا کر دیں۔ کیوں کہ عالمی صیہونیت ہم کو وہیں دھکیل دینے کے لیے سرگرم ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو مقدس جہاد کے لیے تیار کریں (لابد ان يقف المسلمون موقف الاستعداد و ان يدربوا الاجيال على الجهاد المقدس)۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے معاملہ کو جہاد و قتال کا مسئلہ بتانا سراسر نادانی کی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ فقدانِ جہاد کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ فقدانِ تقویٰ کا مسئلہ ہے۔ قرآن میں بار بار بتایا گیا ہے کہ خدا متقیوں کے ساتھ ہے (التوبہ،36:9)۔ اگر تمہارے اندر تقویٰ ہو تو مخالفین کی سازشیں تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکیں گی (آل عمران، 120:3)۔ گویا کہ تقویٰ دفاع کے لیے ایک مؤثر مددگار ہے۔ تقویٰ کا دفاعی قوت ہونا کوئی پر اسرار بات نہیں، یہ ایک سادہ فطری حقیقت ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تقویٰ آدمی کے اندر یہ صفت پیدا کرتا ہے کہ کسی کے ساتھ دشمنی ہو تب بھی وہ اس کے بارے میں منصفانہ انداز میں سوچے، تب بھی وہ انصاف ہی کی بات کہے (المائدہ،5:8)۔ حریف کے بارے میں درست رائے قائم کرنا ہی اس کے مقابلہ میں درست اور کارگر منصوبہ بندی کی واحد ضمانت ہے۔ اس طرح تقویٰ کا تعلق براہ راست طور پر دفاعی تدابیر سے جڑ جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں انڈیا کے ہندوؤں کی مثال لیجیے۔ ذاتی طور پر میں ہندوؤں کو مسلمانوں کا حریف نہیں سمجھتا بلکہ ہندوؤں کو مسلمانوں کا ہم قوم سمجھتا ہوں۔ تاہم بہت سے مسلم رہنما اور مسلم دانشور ہندوؤں کو اپنا حریف سمجھتے ہیں اور ان کے خلاف دفاعی کوشش میں مصروف ہیں۔ مگر ان کی کوششیں نہ صرف ناکام ہیں بلکہ الٹا نتیجہ پیدا کر رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فقدانِ تقویٰ کی وجہ سے وہ ہندو مسئلہ کا صحیح اندازہ کرنے میں ناکام رہے۔ موجودہ زمانہ میں تقریباً تمام مسلم پریس بغیر استثناء ہندوؤں کو ظالم اور متعصب کے روپ میں دکھانے میں مصروف ہے۔ مثال کے طور پر مکہ کے ہفت روزہ اخبار العالم الاسلامی کے شمارہ 17 رجب 1415ھ (19 دسمبر 1994ء) میں ہندوستانی مسلمانوں کی فراہم کردہ ایک رپورٹ چھپی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page