Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 90

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کا عنوان ہے کہ انڈ یا کے ہندوؤں کا یہ منصوبہ ہے کہ وہ دہلی کی مسجدوں کو کھیل کود کے میدان میں تبدیل کر دیں: مخطط هندو سی لتحویل مساجد دلہی الی ملاعب اس رپورٹ میں دوسری مذموم کوششوں کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی ہندو حکومت یہ ارادہ رکھتی ہے کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر روک لگانے کے لیے مردوں کو جبری طور پر بانجھ بنا دے (ان حكومة الهند ۔ الھند و كية ۔ تعمد من اجل الحد من زيادة عدد المسلمين في الھند الى التعقيم الاجباری للرجال) ۔ یہ بات سراسر لغو اور بے بنیاد ہے۔ مگر آج تمام مسلم دانشور اور رہنما ہندوؤں کے بارے میں اسی قسم کے غیر واقعی اندازہ کا شکار ہیں اور جو لوگ اپنے حریف کے بارے میں غیر واقعی اندازہ کا شکار ہو جائیں وہ ان کے مقابلہ میں کامیاب منصوبہ بھی کبھی نہیں کر سکتے۔ اس کانفرنس میں مسلمان بھی قابل لحاظ تعداد میں تھے۔ انڈیا اور پاکستان سے ایک ایک آدمی تھے۔ اس کے علاوہ مراکو، تیونس، مصر، سوڈان، سعودی عرب، فلسطین، ترکی وغیرہ سے کافی لوگ آئے تھے۔ بہت سے پہلوؤں سے ان میں کافی فرق تھا۔ مگر ایک بات میں تقریباً سب کی سوچ ایک تھی۔ ہر ایک کے نزدیک موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا کیس مظلومیت کا کیس تھا۔ ہر ایک کے نزدیک وہ غیر مسلم قوموں کی سازش اور زیادتی کا شکار ہو رہا ہے۔ ایک صاحب سے میں نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ آپ لوگ کیوں کر اس انداز میں سوچتے ہیں۔ یہ تو خود دین اسلام کی تردید ہے۔ خدا کا یہ وعدہ ہے کہ وہ اس دین کی اور اس کے حامیوں کی حفاظت فرمائے گا۔ پھر یہ تو ہمارے عقیدہ کے خلاف ہوگا کہ ہم یہ خیال کریں کہ خدا نے کسی صلیبی یا صہیونی یا استعماری طاقت کو اس بات کا کھلا موقع دے دیا ہے کہ وہ ہم کو تباہ کر ڈالیں۔ آپ لوگوں کو اس کے بجائے یہ کہنا چاہیے کہ کچھ متعصبین نے اندلس میں مسلمانوں کا خاتمہ کرنا چاہا تھا مگر وہ ان کا خاتمہ نہ کر سکے۔ اسلام دوبارہ یہاں نئی طاقت کے ساتھ زندہ ہو گیا۔ اسی طرح ساری دنیا میں مخالفین کی سازشیں ناکام ہو کر رہ جائیں گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page