سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا اندلس کے تجربہ کے ذریعہ خدا ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ اے پیروان محمد، تم لوگ عزم اور ہمت کے ساتھ توحید کے مشن کو دنیا میں پھیلاؤ۔ میں لوگوں کے مقابلہ میں تمہاری یقینی حفاظت کا ذمہ لیتا ہوں (وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ) 67: 5۔ یعنی، اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا۔ غرناطہ اسلام کی توسیع کی تاریخ میں ایک علامتی لفظ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انگریز مورخ ٹامس کارلائل نے اپنے لیکچر (8 مئی 1840ء) میں پیغمبر اسلام کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ گویا ایک چنگاری اوپر سے گری، ایک ایسے ملک میں جو بظاہر تاریک اور ناقابل لحاظ تھا، مگر دیکھو، یہ ریت اس طرح جل اٹھی کہ دہلی سے غرناطہ تک سب روشن ہو گیا: It is not as if a spark had fallen, one spark, on a world of what seemed black unnoticeable sand; but lo, the sand proves explosive powder, blazes heaven-high from Delhi to Grenada. (p. 71) اس ’’روشنی‘‘، کو جو لوگ سیاسی اقتدار کے معنی میں لیتے ہیں وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ روشنی ایک مدت تک جلنے کے بعد بجھ گئی اور صدیوں سے وہ جزئی یا کلی طور پر بجھی ہوئی ہے، مگر یہ معیار درست نہیں۔ میں اس روشنی کو فکری اور روحانی معنی میں لیتا ہوں۔ اس لیے مجھ کو آج بھی یہ روشنی جلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، نہ صرف دہلی سے غرناطہ تک، بلکہ زمین کے اس سرے سے اُس سرے تک۔ جو لوگ جدید حالات کے پس منظر میں اندلس کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں، ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اس موضوع پر 1991ء میں عربی میں ایک معلوماتی کتاب چھپی ہے۔ 160 صفحہ کی اس کتاب کا نام و پتہ یہ ہے: الصحوة الاسلامية فى الاندلس اليوم، تالیف د۔ علی المنتصر الكتانی مركز البحوث والمعلومات، ص ب 893، الدوحة، قطر مصنف جو اسپین کے پڑوسی ملک المغرب سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے کافی تلاش و تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ ہر قسم کے ناموافق حالات کے باوجود اسپین سے مسلمان کبھی ختم نہیں ہوئے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے بڑے عجیب واقعات لکھے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ الغرناطی نام کے ایک شخص سے میری ملاقات کوپن ہیگن (ڈنمارک) میں 5 نومبر 1973ء کو ہوئی تھی۔ اس کی پیدائش برشلونہ میں ہوئی تھی۔ پھر اس نے پاکستان میں 1969ء میں اپنے اسلام کا اعلان کیا۔ ایک سوال کے جواب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader