Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے بتایا کہ جب میں چھوٹا بچہ تھا تو میری دادی نے اپنی موت کے وقت مجھے اپنے قریب بلایا اور سرگوشی کے انداز میں میرے کان میں کہا کہ عیسائی دین ہمارا دین نہیں ہے اور وہ سچا دین بھی نہیں ۔ جب تم بڑے ہوجاؤ تو اپنے دین کو جاننے کی کوشش کرنا (ان الدین النصرانی ليس ديننا وليس هو الدين الحق۔ عند ما تكبر حاول ان تعرف دینک ) صفحہ 88 ۔ الغرناطی نے بڑے ہونے کے بعد اسپین کی تاریخ کا مطالعہ کیا اور پھر وہ اپنی دادی کی بات کو سمجھ گیا۔ اب اس نے دین اسلام کو جان لیا اور اس پر مطمئن ہو گیا اور پاکستان جا کر اپنے اسلام کا اعلان کر دیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اسپین کے بہت سے لوگوں نے اس طرح دوبارہ اپنے اسلام کا اعلان کیا ہے۔ مسلم دانشوروں کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ بلا تحقیق بڑی بڑی باتیں لکھتے رہتے ہیں۔ ان کے اس مزاج کا اظہار اسپین کے معاملے میں بھی بار بار ہوتا رہا ہے۔ مثلاً بمبئی کے ماہنامہ البلاغ (فروری 1995ء) میں ایک صاحب اسپین کے تذکرہ کے تحت لکھتے ہیں کہ ” یہ بھی تاریخ کا ایک المیہ ہے کہ جس اسپین پر مسلمانوں نے باضابطہ طور پر 1492ء تک حکومت کی ، وہاں آج ایک مسلمان نہیں “ (صفحہ 53) مگر جیسا کہ اوپر معلوم ہوا، یہ سراسر بے بنیاد بات ہے۔ اس قسم کی خلاف حقیقت باتیں مختلف عنوانات کے تحت اتنی زیادہ چھپی ہیں کہ اس نے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو غیر ضروری طور پر بے ہمتی میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ بڑا نقصان یہ ہے کہ اس قسم کی منفی باتوں کی مسلسل تکرار نے موجودہ مسلمانوں کے ذہن میں یہ بٹھا دیا ہے کہ ساری دنیا ان کی دشمن ہے۔ ہر طرف ان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ ہر قوم ان کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ قوموں کی اس وہمی تصویر نے مسلمانوں سے ان کا سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ ان سے چھین لیا ہے اور وہ دنیا کی قوموں کے حق میں خیر خواہی کا جذبہ ہے۔ دعوت مسلمان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ مگر دعوت کا عمل انجام دینے کے لیے مدعو کے حق میں خیر خواہی درکار ہے، مسلمانوں کے دل میں دوسری قوموں کے لیے خیر خواہی نہیں، اس لیے ان کے یہاں اسلام کی داعیانۂ طاقت کا استعمال بھی نہیں۔ عجیب بات ہے کہ اسپین کے سفر سے کچھ پہلے ہندوستان کے ایک مشہور عالم اور بزرگ کا خط

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page