سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
(14 اکتوبر 1994ء) مجھ کو ملا۔ موصوف نے اس میں مجھ کو کچھ مشورے دیے تھے اور آخر میں اپنے مشورہ کی اہمیت و ضرورت کو بتاتے ہوئے لکھا تھا کہ :’’... اس لیے کہ اس ملک کو اندلس ثانی بنانے کی بڑی منظم کوشش کی جارہی ہے۔‘‘ ہندوستان اور اندلس دونوں سے تفصیلی واقفیت کی بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ بات دہرانا غلط فہمی پر مبنی ہے۔ جہاں تک اندلس کا تعلق ہے، وہاں ہر قسم کی جارحیت کے باوجود کبھی بھی اسلام یا مسلمانوں کا وجود ختم نہیں کیا جا سکا تھا اور اب تو وہاں دوبارہ اسلام اس شان کے ساتھ آ رہا ہے کہ الصحوة الاسلامية فى الاندلس اليوم جیسے ٹائٹل کے ساتھ کتابیں چھپ رہی ہیں۔ پھر جب خود اندلس اول نہیں بن سکا تو اندلس ثانی آخر کیوں کر بن جائے گا۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے تو یہاں مسلمانوں کو یقیناً کچھ مسائل کا سامنا ہے مگر یہ مسائل کسی نہ کسی صورت میں ہر جگہ ہیں، حتیٰ کہ مسلم ممالک میں بھی۔ اصل یہ ہے کہ مسائل زندگی کا جزء ہیں، جو کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مسائل کو چیلنج کے روپ میں لیں۔ نہ یہ کہ ’اندلس ثانی‘ کا فرضی خطرہ بتا کر مسلمانوں کو پست حوصلہ کریں۔ دور اول میں مسلمانوں کو پہلے غزوۂ بدر میں فتح حاصل ہوئی۔ اس کے بعد غزوۂ احد میں ان کو شکست ہوگئی۔ اس پر لوگوں کے ذہن میں سوالات پیدا ہوئے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے قرآن میں فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ عسکری یا سیاسی فتح کسی ایک قوم کی اجارہ داری نہیں ہے۔ وہ مختلف مصالح کے تحت مختلف قوموں کو باری باری دی جاتی ہے: إِنْ يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُهُ ۚ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (3:140)۔ یعنی، اگر تم کو زخم پہنچا ہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا ہی زخم پہنچ چکا ہے اور (فتح و شکست کے) یہ دن ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔ اسپین کی سیاسی شکست کے معاملہ میں اور موجودہ زمانہ میں اس قسم کی دوسری شکستوں کے معاملہ میں ہمارے علماء اور دانشور جس طرح تبصرہ کرتے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امت کے اہل علم کا پورا طبقہ اس آیت کو بھول گیا ہے۔ ہمارے تقریباً تمام لکھنے اور بولنے والے اس طرح کی سیاسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader