Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

تعلق مسلم اسپین سے ہے یعنی اشبیلیہ، قرطبہ، غرناطہ اور مالقہ وغیرہ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود حکومت اسپین کی نظر میں اپنے ملک کی تاریخ بے معنی اور بے وقعت ہو جاتی ہے اگر اس سے اسلامی دور کو حذف کر دیا جائے۔ مذکورہ کانفرنس میں ایک بڑا عبرت انگیز واقعہ پیش آیا، اس کو ایک عرب ڈاکٹر مصطفی الشکعۃ نے بیان کیا ہے، جو اس میں شریک تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ شکاگو یونیورسٹی کے نمائندہ ڈاکٹر اسمتھ (Dr Smith) نے کانفرنس میں جو مقابلہ پیش کیا وہ اول سے لے کر آخر تک اسلام اور مسلمانوں کے اوپر جارحانہ حملہ تھا۔ حتیٰ کہ اپنی بات ختم کرتے ہوئے انہوں نے پرجوش طور پر کہا کہ اسپین کے باشندوں نے جو سب سے عظیم کارنامہ انجام دیا ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے یہاں سے عربوں اور مسلمانوں کو باہر نکال دیا (اعظم عملِ قام بہ الا سبان ہو طرد العرب والمسلمين من إسبانيا) مناهج المستشرقين، الرياض 1985، 2/276 اس کے بعد میڈریڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر مونتایث کھڑے ہوئے اور نہایت پرزور الفاظ میں امریکی مستشرق کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہ تاریخ کو پڑھا ہے اور نہ اس کو سمجھا ہے۔ اگر وہ آٹھ سو سال نہ ہوتے جو اسپین نے اسلام اور اسلامی تہذیب کے سایہ میں گزارے ہیں، تو ہمارا ملک کبھی تہذیبی تاریخ کے دور میں نہ داخل ہوتا۔ انہیں آٹھ صدیوں کی بدولت اسپین اس قابل ہوا کہ اپنے پڑوس کے یورپی ملکوں میں علم وثقافت کی روشنی پھیلائے جو اُس وقت جہالت، ناخواندگی اور پسماندگی کے اندھیرے میں بھٹک رہے تھے : إنه لم يقرأ التاريخ ولم يفهمه ... إسبانيا ما كان لها أن تدخل التاريخ الحضارى لولا القرون الثمانية التي عاشتها فى ظلّ الاسلام وحضارته، وكانت بذلك باعثة النور والثقافة إلى الاقطار الأوروبية المجاورة المتخبطة آنذاك فى ظلمات الجهل والأُمية والتخلف ( كتاب مذکور صفحہ 277)۔ ڈاکٹر مونتایث مشہور اسپینی مستشرق فرانسیسکو کوڈیرای زِیدین (Francisco Codera Zaydin) کے شاگرد ہیں۔ کوڈیرای کا سالِ پیدائش 1836ء اور سالِ وفات 1917ء ہے۔ وہ قدیم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page